noImage

بمل کرشن اشک

1924 - 1982 | روہتک, ہندوستان

مقبول شاعر، روزمرہ کے تجربات کو شاعری بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں، خوبصورت نظمیں اور غزلیں کہیں

مقبول شاعر، روزمرہ کے تجربات کو شاعری بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں، خوبصورت نظمیں اور غزلیں کہیں

بمل کرشن اشک کی اشعار

282
Favorite

باعتبار

اب کے بسنت آئی تو آنکھیں اجڑ گئیں

سرسوں کے کھیت میں کوئی پتہ ہرا نہ تھا

دیکھنے نکلا ہوں دنیا کو مگر کیا دیکھوں

جس طرف آنکھ اٹھاؤں وہی چہرہ دیکھوں

تم تو کچھ ایسے بھول گئے ہو جیسے کبھی واقف ہی نہیں تھے

اور جو یوں ہی کرنا تھا صاحب کس لیے اتنا پیار کیا تھا

دائرہ کھینچ کے بیٹھا ہوں بڑی مدت سے

خود سے نکلوں تو کسی اور کا رستہ دیکھوں

میں بند کمرے کی مجبوریوں میں لیٹا رہا

پکارتی پھری بازار میں ہوا مجھ کو

سبھی انساں فرشتے ہو گئے ہیں

کسی دیوار میں سایہ نہیں ہے

اب یہی دکھ ہے ہمیں میں تھی کمی اس میں نہ تھی

اس کو چاہا تھا مگر اپنی طرح چاہا نہ تھا

جسم میں خواہش نہ تھی احساس میں کانٹا نہ تھا

اس طرح جاگا کہ جیسے رات بھر سویا نہ تھا

ایسا ہوا کہ گھر سے نہ نکلا تمام دن

جیسے کہ خود سے آج کوئی کام تھا مجھے

ایک دنیا نے تجھے دیکھا ہے لیکن میں نے

جیسے دیکھا ہے تجھے ویسے نہ دیکھا ہوتا

پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ

ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائے دے

بدن کے لوچ تک آزاد ہے وہ

اسے تہذیب نے باندھا نہیں ہے

بدن ڈھانپے ہوئے پھرتا ہوں یعنی

ہوس کے نام پر دھاگا نہیں ہے

اسے چھت پر کھڑے دیکھا تھا میں نے

کہ جس کے گھر کا دروازہ نہیں ہے