ڈاکٹر اعجاز رسول کے اشعار
امیر شہر کی مدحت نہ لکھی جائے گی ہم سے
کہ جو خود دار ہیں وہ کار درباری نہیں کرتے
رفیق دل جو بنے سچ کی ترجمانی کرے
معاشرے کو اس آواز کی ضرورت ہے
سچ کا پرسان حال کوئی نہیں
جھوٹ کی ہر طرف حمایت ہے
جب اس نے تجھ سے محبت کا کر دیا اظہار
تو پھر یہ فاصلہ اعجازؔ درمیاں کیوں ہے
دیکھی ہے رعونت بھی اور نام بھی دیکھا ہے
تاریخ نے ظالم کا انجام بھی دیکھا ہے
یاروں کا طرز حوصلہ افزائی دیکھیے
تحسین میں ہے طنز کا پتھر چھپا ہوا
تہ داریٔ معنی ہی نہ ہو گر تو غزل کیا
وہ شعر بھی کیا جس میں اشارت نہیں ملتی
پرچم امن لیے پھرتا تھا ظاہر میں جو ہاتھ
میں نے اعجازؔ اسی ہاتھ میں خنجر دیکھا
ہیں کچھ نقاد ایسے بھی کہ جو تہہ تک نہیں جاتے
حواشی دیکھتے ہیں متن سارا چھوڑ دیتے ہیں
موسم کی بے رخی کا یہ کیسا اثر ہوا
پھولوں کی نرم شاخ بھی تلوار ہو گئی
صداقت کے تعلق سے قلم کاری نہیں کرتے
بہت سے آئنے بھی آئنہ داری نہیں کرتے
کوئی بھی چہرہ یہاں قابل وثوق نہیں
رفاقتوں میں بھی اعجازؔ فاصلہ رکھیے