Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dr. Ajaz Rasool's Photo'

ڈاکٹر اعجاز رسول

1962 | پٹنہ, انڈیا

ڈاکٹر اعجاز رسول کے اشعار

باعتبار

امیر شہر کی مدحت نہ لکھی جائے گی ہم سے

کہ جو خود دار ہیں وہ کار درباری نہیں کرتے

رفیق دل جو بنے سچ کی ترجمانی کرے

معاشرے کو اس آواز کی ضرورت ہے

سچ کا پرسان حال کوئی نہیں

جھوٹ کی ہر طرف حمایت ہے

جب اس نے تجھ سے محبت کا کر دیا اظہار

تو پھر یہ فاصلہ اعجازؔ درمیاں کیوں ہے

دیکھی ہے رعونت بھی اور نام بھی دیکھا ہے

تاریخ نے ظالم کا انجام بھی دیکھا ہے

یاروں کا طرز حوصلہ افزائی دیکھیے

تحسین میں ہے طنز کا پتھر چھپا ہوا

تہ داریٔ معنی ہی نہ ہو گر تو غزل کیا

وہ شعر بھی کیا جس میں اشارت نہیں ملتی

پرچم امن لیے پھرتا تھا ظاہر میں جو ہاتھ

میں نے اعجازؔ اسی ہاتھ میں خنجر دیکھا

ہیں کچھ نقاد ایسے بھی کہ جو تہہ تک نہیں جاتے

حواشی دیکھتے ہیں متن سارا چھوڑ دیتے ہیں

موسم کی بے رخی کا یہ کیسا اثر ہوا

پھولوں کی نرم شاخ بھی تلوار ہو گئی

صداقت کے تعلق سے قلم‌ کاری نہیں کرتے

بہت سے آئنے بھی آئنہ داری نہیں کرتے

کوئی بھی چہرہ یہاں قابل وثوق نہیں

رفاقتوں میں بھی اعجازؔ فاصلہ رکھیے

لب پہ ہنسی کا پھول ہے دل میں چراغ غم

ہے قہقہے میں درد کا منظر چھپا ہوا

Recitation

بولیے