Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dr. Ajaz Rasool's Photo'

ڈاکٹر اعجاز رسول

1962 | پٹنہ, انڈیا

ڈاکٹر اعجاز رسول کے اشعار

27
Favorite

باعتبار

امیر شہر کی مدحت نہ لکھی جائے گی ہم سے

کہ جو خود دار ہیں وہ کار درباری نہیں کرتے

سچ کا پرسان حال کوئی نہیں

جھوٹ کی ہر طرف حمایت ہے

رفیق دل جو بنے سچ کی ترجمانی کرے

معاشرے کو اس آواز کی ضرورت ہے

دیکھی ہے رعونت بھی اور نام بھی دیکھا ہے

تاریخ نے ظالم کا انجام بھی دیکھا ہے

جب اس نے تجھ سے محبت کا کر دیا اظہار

تو پھر یہ فاصلہ اعجازؔ درمیاں کیوں ہے

یاروں کا طرز حوصلہ افزائی دیکھیے

تحسین میں ہے طنز کا پتھر چھپا ہوا

صداقت کے تعلق سے قلم‌ کاری نہیں کرتے

بہت سے آئنے بھی آئنہ داری نہیں کرتے

موسم کی بے رخی کا یہ کیسا اثر ہوا

پھولوں کی نرم شاخ بھی تلوار ہو گئی

پرچم امن لیے پھرتا تھا ظاہر میں جو ہاتھ

میں نے اعجازؔ اسی ہاتھ میں خنجر دیکھا

ہیں کچھ نقاد ایسے بھی کہ جو تہہ تک نہیں جاتے

حواشی دیکھتے ہیں متن سارا چھوڑ دیتے ہیں

تہ داریٔ معنی ہی نہ ہو گر تو غزل کیا

وہ شعر بھی کیا جس میں اشارت نہیں ملتی

کوئی بھی چہرہ یہاں قابل وثوق نہیں

رفاقتوں میں بھی اعجازؔ فاصلہ رکھیے

لب پہ ہنسی کا پھول ہے دل میں چراغ غم

ہے قہقہے میں درد کا منظر چھپا ہوا

Recitation

بولیے