535
Favorite

باعتبار

واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے

وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے

کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیا

پیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کر

شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے

لوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے

نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میری

یہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھ

رستے میں فہیمؔ اس کی طبیعت کا بگڑنا

گھر جانے کا اک اور بہانہ تو نہیں ہے

بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیں

کھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہے

جائیں گے ایک روز سمندر کی گود میں

دریا کے ساتھ ریت کی تحریر اور ہم

کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتے

فہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائے

تیری یادیں ہو گئیں جیسے مقدس آیتیں

چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر

تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہے

نظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیا

ملن کے بعد آتی ہے جدائی

نرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہے

ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والو

تمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہے

مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہ

آنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئے