Faizan Hashmi's Photo'

فیضان ہاشمی

1986 | پاکستان

میں اپنی خوشیاں اکیلے منایا کرتا ہوں

یہی وہ غم ہے جو تجھ سے چھپا ہوا ہے مرا

بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میں

یہ محبت ہے کوئی مر نہیں سکتا اس میں

تیرا بوسہ ایسا پیالہ ہے جس میں سے

پانی پینے والا پیاسا رہ جائے گا

میں اس کو خواب میں کچھ ایسے دیکھا کرتا تھا

تمام رات وہ سوتے میں مسکراتی تھی

وہ کیا خوشی تھی جو دل میں بحال رہتی تھی

مگر وجہ نہیں بنتی تھی مسکرانے کی

بہت قدیم نہیں کل کا واقعہ ہے یہ

میں اس زمین پہ اترا تھا تیری ذات کے ساتھ

تیری ہی سیر کے لیے آتا رہوں گا بار بار

تیرا تھا سات دن کا شوق میری ہے عمر بھر کی سیر

خلا میں گروی رکھا اپنے سارے خوابوں کو

اور اس زمین پہ چھوٹا سا گھر لیا میں نے

جس پری پر مر مٹے تھے وہ پری زادی نہ تھی

بعد میں جانا کہ اس کے دونوں پر ہوتے تھے ہم