Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Faizan Umar's Photo'

فیضان عمر

1999 | جلگاؤں, انڈیا

فیضان عمر کے اشعار

کسی کی قبر پہ جیسے نشانی رکھی ہو

کچھ اس طرح سے ترا غم خوشی پہ رکھا ہے

بچا ہوا تھا مرے پاس ایک شخص عمرؔ

اسے بھی مجھ سے مگر جنوری نے چھین لیا

وہ پل سکوں کا کہتا ہے سارا جہاں جسے

اللہ جانتا ہے ترے بن نہیں ملا

غزل رکھا ہے ترا نام اس لیے مجھ کو

سبھی پکارتے ہیں عاشق غزل کہہ کر

وہ لوگ بھی فراق پہ کہنے لگے غزل

دو دن بھی ٹھیک سے جو الم میں نہیں رہے

میں اس مقام پہ ہوں ہجر میں جہاں مجھ کو

کسی کی بات پہ ہنسنا بھی جرم لگتا ہے

ترے فراق میں تیری ہی گفتگو کر کے

پھٹا لباس پہنتا رہا رفو کر کے

اگر تو قلب میں میرے مکیں نہیں ہوتا

تو مجھ کو عشق پہ بالکل یقیں نہیں ہوتا

یہ تربیت ہے مری آپ آپ کرتا ہوں

بھلے ہی آپ کریں بات مجھ سے تو کر کے

Recitation

بولیے