فیضان عمر کے اشعار
بچا ہوا تھا مرے پاس ایک شخص عمرؔ
اسے بھی مجھ سے مگر جنوری نے چھین لیا
وہ پل سکوں کا کہتا ہے سارا جہاں جسے
اللہ جانتا ہے ترے بن نہیں ملا
غزل رکھا ہے ترا نام اس لیے مجھ کو
سبھی پکارتے ہیں عاشق غزل کہہ کر
وہ لوگ بھی فراق پہ کہنے لگے غزل
دو دن بھی ٹھیک سے جو الم میں نہیں رہے
کسی کی قبر پہ جیسے نشانی رکھی ہو
کچھ اس طرح سے ترا غم خوشی پہ رکھا ہے
میں اس مقام پہ ہوں ہجر میں جہاں مجھ کو
کسی کی بات پہ ہنسنا بھی جرم لگتا ہے
یہ تربیت ہے مری آپ آپ کرتا ہوں
بھلے ہی آپ کریں بات مجھ سے تو کر کے
ترے فراق میں تیری ہی گفتگو کر کے
پھٹا لباس پہنتا رہا رفو کر کے