غزل 23

اشعار 32

کسی کے جور مسلسل کا فیض ہے اخگرؔ

وگرنہ درد ہمارے سخن میں کتنا تھا

  • شیئر کیجیے

اظہار پہ بھاری ہے خموشی کا تکلم

حرفوں کی زباں اور ہے آنکھوں کی زباں اور

  • شیئر کیجیے

عشق میں دل کا یہ منظر دیکھا

آگ میں جیسے سمندر دیکھا

  • شیئر کیجیے

شامل ہوئے ہیں بزم میں مثل چراغ ہم

اب صبح تک جلیں گے لگاتار دیکھنا

  • شیئر کیجیے

آئنے میں ہے فقط آپ کا عکس

آئنہ آپ کی صورت تو نہیں

  • شیئر کیجیے

ویڈیو 19

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

اس طرح عہد_تمنا کو گزارے جائیے

حنیف اخگر

اس طرح عہد_تمنا کو گزارے جائیے

حنیف اخگر

حال_دل_بیمار سمجھ میں چارہ_گروں کی آئے کم

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

خلوت_جاں میں ترا درد بسانا چاہے

حنیف اخگر

خلوت_جاں میں ترا درد بسانا چاہے

حنیف اخگر

دیکھنا یہ عشق میں حسن_پذیرائی کے رنگ

حنیف اخگر

عزم_سفر سے پہلے بھی اور ختم_سفر سے آگے بھی

حنیف اخگر

وہ دل میں اور قریب‌_رگ_گلو بھی ملے

حنیف اخگر