حنیف اخگر کی اشعار

459
Favorite

باعتبار

کسی کے جور مسلسل کا فیض ہے اخگرؔ

وگرنہ درد ہمارے سخن میں کتنا تھا

اظہار پہ بھاری ہے خموشی کا تکلم

حرفوں کی زباں اور ہے آنکھوں کی زباں اور

عشق میں دل کا یہ منظر دیکھا

آگ میں جیسے سمندر دیکھا

شامل ہوئے ہیں بزم میں مثل چراغ ہم

اب صبح تک جلیں گے لگاتار دیکھنا

آئنے میں ہے فقط آپ کا عکس

آئنہ آپ کی صورت تو نہیں

کافر سہی ہزار مگر اس کو کیا کہیں

ہم پر وہ مہرباں ہے مسلمان کی طرح

جو ہے تازگی مری ذات میں وہی ذکر و فکر چمن میں ہے

کہ وجود میرا کہیں بھی ہو مری روح میرے وطن میں ہے

وہ کم سنی میں بھی اخگرؔ حسین تھا لیکن

اب اس کے حسن کا عالم عجیب عالم ہے

جب بھی اس زلف پریشاں کی ہوا آتی ہے

ہم تو خوشبو کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں

کوئی ساغر پہ ساغر پی رہا ہے کوئی تشنہ ہے

مرتب اس طرح آئین مے خانہ نہیں ہوتا

لوگ ملنے کو چلے آتے ہیں دیوانے سے

شہر کا ایک تعلق تو ہے ویرانے سے

دیکھیے رسوا نہ ہو جائے کہیں کار جنوں

اپنے دیوانے کو اک پتھر تو مارے جائیے

دیکھو ہماری سمت کہ زندہ ہیں ہم ابھی

سچائیوں کی آخری پہچان کی طرح

جو مسافر بھی ترے کوچے سے گزرا ہوگا

اپنی نظروں کو بھی دیوار سمجھتا ہوگا

تمہاری آنکھوں کی گردشوں میں بڑی مروت ہے ہم نے مانا

مگر نہ اتنی تسلیاں دو کہ دم نکل جائے آدمی کا

یہ سانحہ بھی بڑا عجب ہے کہ اپنے ایوان رنگ و بو میں

ہیں جمع سب مہر و ماہ و انجم پتا نہیں پھر بھی روشنی کا

کشتۂ ضبط فغاں نغمۂ بے ساز و صدا

اف وہ آنسو جو لہو بن کے ٹپکتا ہوگا

نگاہیں پھیرنے والے یہ نظریں اٹھ ہی جاتی ہیں

کبھی بیگانگی وجہ شناسائی بھی ہوتی ہے

عجب ہے عالم عجب ہے منظر کہ سکتہ میں ہے یہ چشم حیرت

نقاب الٹ کر وہ آ گئے ہیں تو آئنے گنگنا رہے ہیں

یاد فروغ دست حنائی نہ پوچھیے

ہر زخم دل کو رشک نمک داں بنا دیا

بزم کو رنگ سخن میں نے دیا ہے اخگرؔ

لوگ چپ چپ تھے مری طرز نوا سے پہلے

پوچھتی رہتی ہے جو قیصر و کسریٰ کا مزاج

شان یہ خاک نشینوں میں کہاں سے آئی

حسین صورت ہمیں ہمیشہ حسیں ہی معلوم کیوں نہ ہوتی

حسین انداز دل نوازی حسین تر ناز برہمی کا

فقدان عروج رسن و دار نہیں ہے

منصور بہت ہیں لب اظہار نہیں ہے

ہر چند ہمہ گیر نہیں ذوق اسیری

ہر پاؤں میں زنجیر ہے میں دیکھ رہا ہوں

آنکھوں میں جل رہے تھے دیئے اعتبار کے

احساس ظلمت شب ہجراں نہیں رہا

خلوت جاں میں ترا درد بسانا چاہے

دل سمندر میں بھی دیوار اٹھانا چاہے

پل بھر نہ بجلیوں کے مقابل ٹھہر سکے

اتنا بھی کم سواد مرا آشیاں کہاں

شدید تند ہوائیں ہیں کیا کیا جائے

سکوت غم کی صدائیں ہیں کیا کیا جائے

ہر طرف ہیں خانہ بربادی کے منظر بے شمار

کچھ ٹھکانہ ہے بھلا اس جذبۂ تعمیر کا

بے شک اسیر گیسوئے جاناں ہیں بے شمار

ہے کوئی عشق میں بھی گرفتار دیکھنا

جو کشود کار طلسم ہے وہ فقط ہمارا ہی اسم ہے

وہ گرہ کسی سے کھلے گی کیا جو تری جبیں کی شکن میں ہے