Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اکرام عارفی

غزل 13

اشعار 18

اک دھما چوکڑی ہے سینے میں

یہ کہیں بے لگام دل تو نہیں

چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام

حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا

سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے

دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا

سوکھنے والے پھر ہرے نہ ہوئے

راہ کی گھاس پھر نہ پھولی پھلی

قریب تھا کہ مرے حق میں بولتا انصاف

مقدمے کی سماعت نے گھٹنے ٹیک دئے

"لاہور" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے