اکرام عارفی
غزل 13
اشعار 18
اک دھما چوکڑی ہے سینے میں
یہ کہیں بے لگام دل تو نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام
حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے
دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
سوکھنے والے پھر ہرے نہ ہوئے
راہ کی گھاس پھر نہ پھولی پھلی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
قریب تھا کہ مرے حق میں بولتا انصاف
مقدمے کی سماعت نے گھٹنے ٹیک دئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے