Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اکرام عارفی کے اشعار

سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے

دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا

چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام

حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا

دل میں آئے کوئی کھری عورت

یہ کنواں بھر گیا ہے کھوٹیوں سے

وعدوں کے جس مقام پہ چھوڑا تھا آپ نے

ہم آج تک وہیں پہ کھڑے ہیں جناب من

ایسا نہیں کہ پھول درختوں ہی سے گرے

کچھ شاخ چشم سے بھی جھڑے ہیں جناب من

دشت درپیش ہے سو چلتا ہوں

آنکھ میں بھر کے تین چار درخت

Recitation

بولیے