اکرام عارفی کے اشعار
سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے
دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا
-
موضوع : سوال
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام
حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا
دل میں آئے کوئی کھری عورت
یہ کنواں بھر گیا ہے کھوٹیوں سے
-
موضوع : تمنا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وعدوں کے جس مقام پہ چھوڑا تھا آپ نے
ہم آج تک وہیں پہ کھڑے ہیں جناب من
ایسا نہیں کہ پھول درختوں ہی سے گرے
کچھ شاخ چشم سے بھی جھڑے ہیں جناب من
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دشت درپیش ہے سو چلتا ہوں
آنکھ میں بھر کے تین چار درخت