غزل 5

 

اشعار 6

نشہ تھا زندگی کا شرابوں سے تیز تر

ہم گر پڑے تو موت اٹھا لے گئی ہمیں

زخم جو تو نے دیے تجھ کو دکھا تو دوں مگر

پاس تیرے بھی نصیحت کے سوا ہے اور کیا

جانے کس شہر میں آباد ہے تو

ہم ہیں برباد یہاں تیرے بعد

اکیلے پار اتر کے بہت ہے رنج مجھے

میں اس کا بوجھ اٹھا کر بھی تیر سکتا تھا

غم حیات نے بخشے ہیں سارے سناٹے

کبھی ہمارے بھی پہلو میں دل دھڑکتا تھا

کتاب 2

خواب سا کچھ

 

2005

شمارہ نمبر-003

1996

 

"اتر پردیش" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری
  • ریاضؔ خیرآبادی ریاضؔ خیرآبادی
  • شہریار شہریار
  • میر حسن میر حسن
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • جرأت قلندر بخش جرأت قلندر بخش
  • اسعد بدایونی اسعد بدایونی