Kamal Ahmad Siddiqi's Photo'

کمال احمد صدیقی

1926 - 2013 | دلی, ہندوستان

عروض کے معروف ماہر اور محقق

عروض کے معروف ماہر اور محقق

کمال احمد صدیقی کی اشعار

کچھ لوگ جو خاموش ہیں یہ سوچ رہے ہیں

سچ بولیں گے جب سچ کے ذرا دام بڑھیں گے

اس کا تو ایک لفظ بھی ہم کو نہیں ہے یاد

کل رات ایک شعر کہا تھا جو خواب میں

ایک دل ہے کہ اجڑ جائے تو بستا ہی نہیں

ایک بت خانہ ہے اجڑے تو حرم ہوتا ہے

پرسش حال بھی اتنی کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں

اس تکلف سے کرم ہو تو ستم ہوتا ہے

زندگی نام اسی موج مے ناب کا ہے

مے کدے سے جو اٹھے دار و رسن تک پہنچے

مرا خیال نہیں ہے تو اور کیا ہوگا

گزر گیا ترے ماتھے سے جو شکن کی طرح