Liyaqat Ali Aasim's Photo'

لیاقت علی عاصم

1951 - 2019 | کراچی, پاکستان

1.1K
Favorite

باعتبار

ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیں

جس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارک

زمانوں بعد ملے ہیں تو کیسے منہ پھیروں

مرے لیے تو پرانی شراب ہیں مرے دوست

بہت ضخیم کتابوں سے چن کے لایا ہوں

انہیں پڑھو ورق انتخاب ہیں مرے دوست

گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہوگی

گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا

ذرا سا ساتھ دو غم کے سفر میں

ذرا سا مسکرا دو تھک گیا ہوں

کبھی یہ غلط کبھی وہ غلط کبھی سب غلط

یہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے

بہت روئی ہوئی لگتی ہیں آنکھیں

مری خاطر ذرا کاجل لگا لو

منانا ہی ضروری ہے تو پھر تم

ہمیں سب سے خفا ہو کر منا لو

وہ جو آنسوؤں کی زبان تھی مجھے پی گئی

وہ جو بے بسی کے کلام تھے مجھے کھا گئے

اس سفر سے کوئی لوٹا نہیں کس سے پوچھیں

کیسی منزل ہے جہان گزراں سے آگے

میری راتیں بھی سیہ دن بھی اندھیرے میرے

رنگ یہ میرے مقدر میں کہاں سے آیا

شام کے سائے میں جیسے پیڑ کا سایا ملے

میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی

کہاں تک ایک ہی تمثیل دیکھوں

بس اب پردہ گرا دو تھک گیا ہوں

بتان شہر تمہارے لرزتے ہاتھوں میں

کوئی تو سنگ ہو ایسا کہ میرا سر لے جائے