Lutf-ur-rahman's Photo'

لطف الرحمن

1941 | پٹنہ, ہندوستان

کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی

چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا

میں خود ہی اپنے تعاقب میں پھر رہا ہوں ابھی

اٹھا کے تو میری راہوں سے راستا لے جا

میں در بدر ہوں ابھی اپنی جستجو میں بہت

میں اپنے لہجے کو انداز دے رہا ہوں ابھی

جاتے جاتے دیا اس طرح دلاسا اس نے

بیچ دریا میں کوئی جیسے کنارہ نکلا

تمام عمر مرا مجھ سے اختلاف رہا

گلہ نہ کر جو کبھی تیرا ہم نوا نہ ہوا

میں کہ اپنا ہی پتہ پوچھ رہا ہوں سب سے

کھو گئی جانے کہاں عمر گزشتہ میری

ترا تو کیا کہ خود اپنا بھی میں کبھی نہ رہا

مرے خیال سے خوابوں کا سلسلہ لے جا

اب نہ وہ ذوق وفا ہے نہ مزاج غم ہے

ہو بہو گرچہ کوئی تیری مثال آیا تھا