noImage

محفوظ الرحمان عادل

1K
Favorite

باعتبار

وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو

حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں

سامنے ماں کے جو ہوتا ہوں تو اللہ اللہ

مجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے کہ بچہ ہوں ابھی

مت بیٹھ آشیاں میں پروں کو سمیٹ کر

کر حوصلہ کشادہ فضا میں اڑان کا

تری عقل گم تجھے کر نہ دے رہ زندگی میں سنبھل کے چل

تو گماں کی حد نہ تلاش کر کہ کہیں بھی حد گماں نہیں

دیکھ لینا ایک دن بے روزگاری کا عذاب

چھین کر چہروں کی ساری دل کشی لے جائے گا

وہ لالہ بدن جھیل میں اترا نہیں ورنہ

شعلے متواتر اسی پانی سے نکلتے

تمہاری مست آنکھوں کا تصور

مری توبہ سے ٹکرانے لگا ہے

زندگی کو حوصلہ دینے کے خاطر

خواہشوں کو ریزہ ریزہ چن رہا ہوں

ہمیشہ دھوپ کی چادر پہ تکیہ کون کرتا ہے

کھلی چھت ہے تو پھر برسات کا بھی سامنا ہوگا

مجھ کو شوق جستجوئے کائنات

خاک سے عادلؔ خلا تک لے گیا

جنتیں تو پیشواؤں نے ہی مل کر بانٹ لیں

ہم کو الجھایا گیا ہے دوزخوں کے درمیاں

اب تک اسی معمے میں الجھا ہوا ہوں میں

لائی ہے زندگی مجھے کیوں اس جہان تک

ایک دن وہ ذروں کو آفتاب کر لیں گے

دھوپ کے جو خواہاں ہیں رات کے اندھیرے میں

آپ نور افشاں ہیں رات کے اندھیرے میں

یا ستارے رقصاں ہیں رات کے اندھیرے میں

جو تیری زلف کے سائے میں چند دن گزرے

وہ غم کی دھوپ میں یاد آئے سائباں کی طرح

اب سر عام جدا ہوتے ہیں سر شانوں سے

اب یہ منظر ہے تعجب کا نہ حیرانی کا

تمہارے بخشے ہوئے آنسوؤں کے قطروں سے

شب فراق میں تارے سجا رہا ہوں میں

کیوں زمانہ ہی بدلتا ہے تجھے

تو زمانے کو بدلتا کیوں نہیں

پرت پرت ترا چہرہ سجا رہا ہوں میں

یہ اتفاق کہ ہیں گھر میں آئنے ٹوٹے

قیدی بنا کے رکھا ہے اس نے تمام عمر

مجھ کو حصار جاں سے نکلنے نہیں دیا

ہوا کے رحم و کرم پر ہوں بے ٹھکانہ ہوں

شجر سے ٹوٹا ہوا ایک زرد پتا ہوں

بات تو جب ہے فصل جنوں میں دیوانے تو دیوانے

اہل خرد بھی رقص کریں زنجیروں کی جھنکاروں پر

شاخ سے گر کر ہوا کے ساتھ ساتھ

کس طرف یہ زرد پتا جائے گا

میرا ظاہر دیکھنے والے مرا باطن بھی دیکھ

گھر کے باہر ہے اجالا گھر کے اندر کچھ نہیں

اب اسے اپنی شباہت بھی گزرتی ہے گراں

گھر کے اندر کوئی شیشہ نہیں رہنے دیتا

اسی نے بخشا ہے مجھ کو شعور جینے کا

جو مشکلوں کی گھڑی بار بار آئی ہے

آفتاب گرم سے دست و گریباں ہو گئے

دھوپ کی شدت سے سائے جب پریشاں ہو گئے

شبنمی قطرے گل لالہ پہ تھے رقص کناں

برف کے ٹکڑے بھی دیکھے گئے انگاروں میں

بھولی بسری داستاں مجھ کو نہ سمجھو

میں نئی پہچان کا اک واسطہ ہوں

وہ جگا کر ہم کو سب خوش منظری لے جائے گا

خواب کیا ہے خواب کی تعبیر بھی لے جائے گا

ان سفینوں کی تباہی میں ہے عبرت کا سبق

جو کنارے تک پہنچ کر نذر طوفاں ہو گئے

بے لباسی مری توقیر کا باعث ٹھہری

بول بالا ہے بہت شہر میں عریانی کا

یہ بھی ہے مارا ہوا ساقی کی چشم ناز کا

اس لئے عادلؔ کو شیشے کی پری اچھی لگی

وہ مری آوارہ گردی وہ مرا دیوانہ پن

وہ مری تعظیم میں دیوار و در کا جاگنا

میرے تلووں کے لہو سے ہوگی روشن ہر جہت

رہروان راہ منزل ہوں گے ششدر دیکھنا

خود مرے آنسو چمک رکھتے ہیں گوہر کی طرح

میری چشم آرزو میں ماہ و اختر کچھ نہیں