مجید اختر کی اشعار

رات بھی چاند بھی سمندر بھی

مل گئے کتنے غم گسار مجھے

ذرا ٹھہرو کہ پڑھ لوں کیا لکھا موسم کی بارش نے

مری دیوار پر لکھتی رہی ہے داستاں وہ بھی

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر

سارا حساب جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے

چاہے تو دے اماں مجھے چاہے تو درگزر نہ کر