Majeed Amjad's Photo'

مجید امجد

1914 - 1976 | پنجاب, پاکستان

جدید اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں نمایاں

جدید اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں نمایاں

881
Favorite

باعتبار

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا

کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

ترے خیال کے پہلو سے اٹھ کے جب دیکھا

مہک رہا تھا زمانے میں چار سو ترا غم

مسیح و خضر کی عمریں نثار ہوں اس پر

وہ ایک لمحہ جو یاروں کے درمیاں گزرے

ہائے وہ زندگی فریب آنکھیں

تو نے کیا سوچا میں نے کیا سمجھا

تری یاد میں جلسہ تعزیت

تجھے بھول جانے کا آغاز تھا

زندگی کی راحتیں ملتی نہیں ملتی نہیں

زندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیے

بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیے

وہ گھاؤ جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی

اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ

میں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے

میں ایک پل کے رنج فراواں میں کھو گیا

مرجھا گئے زمانے مرے انتظار میں

نگہ اٹھی تو زمانے کے سامنے ترا روپ

پلک جھکی تو مرے دل کے روبرو ترا غم

چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے

پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے

صحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے

سپردگی میں بھی اک رمز خود نگہ داری

وہ میرے دل سے مرے واسطے نہیں گزرے

جب انجمن توجہ صد گفتگو میں ہو

میری طرف بھی اک نگہ کم سخن پڑے

میری مانند خود نگر تنہا

یہ صراحی میں پھول نرگس کا

یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں بانہیں

چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول

شاید اک بھولی تمنا مٹتے مٹتے جی اٹھے

اور بھی اس جلوہ زار رنگ و بو میں گھومیے