منیش شکلا کی اشعار

2.1K
Favorite

باعتبار

بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا

ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

کسی کے عشق میں برباد ہونا

ہمیں آیا نہیں فرہاد ہونا

میں تھا جب کارواں کے ساتھ تو گل زار تھی دنیا

مگر تنہا ہوا تو ہر طرف صحرا ہی صحرا تھا

دل کا سارا درد بھرا تصویروں میں

ایک مصور نقش ہوا تصویروں میں

مرے دل میں کوئی معصوم بچہ

کسی سے آج تک روٹھا ہوا ہے

سنا ہے رات پورے چاند کی ہے

سمندر شام سے بہکا ہوا ہے

لطف تو دیتی ہے یہ آوارگی

پھر بھی ہم کو لوٹ جانا چاہئے

وقت کہاں مٹھی میں آنے والا تھا

لیکن ہم نے باندھ لیا تصویروں میں

ہم چراغوں کی مدد کرتے رہے

اور ادھر سورج بجھا ڈالا گیا

تجھے جب دیکھتا ہوں تو خود اپنی یاد آتی ہے

مرا انداز ہنسنے کا کبھی تیرے ہی جیسا تھا

مری آوارگی ہی میرے ہونے کی علامت ہے

مجھے پھر اس سفر کے بعد بھی کوئی سفر دینا

اسی نے راہ دکھلائی جہاں کو

جو اپنی راہ پر تنہا گیا تھا

بتاؤں کیا تمہیں حاصل سفر کا

ادھوری داستاں ہے اور میں ہوں

سفر میں اب مسلسل زلزلے ہیں

وہ رک جائیں جنہیں گرنے کا ڈر ہے

اب تک جسم سلگتا ہے

کیسی تھی برسات نہ پوچھ

زمانے سے گھبرا کے سمٹے تھے خود میں

مگر اب تو خود سے بھی اکتا رہے ہیں

کتنے لوگوں سے ملنا جلنا تھا

خود سے ملنا بھی اب محال ہوا

سیدھے اپنی بات پہ آ

یہ لہجہ درباری چھوڑ

کوئی تعمیر کی صورت تو نکلے

ہمیں منظور ہے بنیاد ہونا

اب اپنا چہرہ بیگانہ لگتا ہے

ہم کو تھی سنجیدہ رہنے کی عادت

گفتگو کا کوئی تو ملتا سرا

پھر اسے ناراض کر کے دیکھتے

اڑانوں نے کیا تھا اس قدر مایوس ان کو

تھکے ہارے پرندے جال میں خود پھنس رہے تھے

کاغذوں پر مفلسی کے مورچے سر ہو گئے

اور کہنے کے لئے حالات بہتر ہو گئے

زندگی دیکھ لے نظر بھر کے

ہم ہیں شامل ترے خرابوں میں

ہم نے تو پاس ادب میں بندہ پرور کہہ دیا

اور وہ سمجھے کہ سچ میں بندہ پرور ہو گئے

کتنی عجلت میں مٹا ڈالا گیا

آگ میں سب کچھ جلا ڈالا گیا

اول آخر ہی جب نہیں بس میں

کیا کریں درمیان کی باتیں

چند لکیریں تو اس درجہ گہری تھیں

دیکھنے والا ڈوب گیا تصویروں میں

آخر ہم کو بے زاری تک لے آئی

ہر شے پر گرویدہ رہنے کی عادت