noImage

مذاق بدایونی

1819 - 1894 | بدایوں, ہندوستان

مذاق بدایونی

غزل 6

اشعار 5

زباں پر آہ رہی لب سے لب کبھو نہ ملا

تری طلب تو ملی کیا ہوا جو تو نہ ملا

ہم سے وحشی نہیں ہونے کے گرفتار کبھی

لوگ دیوانے ہیں زنجیر لیے پھرتے ہیں

  • شیئر کیجیے

سات آسماں کی سیر ہے پردوں میں آنکھ کے

آنکھیں کھلیں تو طرفہ تماشا نظر پڑا

واعظ بتوں کے آگے نہ فرقاں نکالئے

صورت سے ان کی معنیٔ قرآں نکالئے

نکل گیا مری آنکھوں سے مثل خواب و خیال

گزر گیا دل روشن سے وہ نظر بن کر

کتاب 1

آئینہ دلدار

 

1956

 

"بدایوں" کے مزید شعرا

  • فہمی بدایونی فہمی بدایونی
  • احمد عظیم احمد عظیم
  • حسیب سوز حسیب سوز
  • ڈاکٹر ارملیش ڈاکٹر ارملیش
  • انیس قلب انیس قلب
  • عمران بدایوںی عمران بدایوںی
  • عزیز بدایونی عزیز بدایونی
  • خالد ندیم بدایونی خالد ندیم بدایونی
  • وسیم نادر وسیم نادر
  • اجول وششٹھا اجول وششٹھا