Mukhtar Siddiqui's Photo'

مختار صدیقی

1919 - 1972

مختار صدیقی کے اشعار

201
Favorite

باعتبار

میری آنکھوں ہی میں تھے ان کہے پہلو اس کے

وہ جو اک بات سنی میری زبانی تم نے

عبرت آباد بھی دل ہوتے ہیں انسانوں کے

داد ملتی بھی نہیں خوں شدہ ارمانوں کی

کبھی فاصلوں کی مسافتوں پہ عبور ہو تو یہ کہہ سکوں

مرا جرم حسرت قرب ہے تو یہی کمی یہاں سب میں ہے

بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی

وسعتیں ان میں وہی لاتے ہیں ویرانوں کی

پھیرا بہار کا تو برس دو برس میں ہے

یہ چال ہے خزاں کی جو رک رک کے تھم گئی

جن خیالوں کے الٹ پھیر میں الجھیں سانسیں

ان میں کچھ اور بھی سانسوں کا اضافہ کر لیں

کیا کیا پکاریں سسکتی دیکھیں لفظوں کے زندانوں میں

چپ ہی کی تلقین کرے ہے غیرت مند ضمیر ہمیں

نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی

کب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئی

سحر ازل کو جو دی گئی وہی آج تک ہے مسافری

اے طے کریں تو پتہ چلے کہاں کون کس کی طلب میں ہے

رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں

جو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاں

میں تو ہر دھوپ میں سایوں کا رہا ہوں جویا

مجھ سے لکھوائی سرابوں کی کہانی تم نے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے