156
Favorite

باعتبار

بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا غافلؔ

یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد

آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد

نہ رہی دشت میں خالی مری جا میرے بعد

لیلۃ القدر ہے ہر شب اسے ہر روز ہے عید

جس نے مے خانہ میں ماہ رمضاں دیکھا ہے

حق محنت ان غریبوں کا سمجھتے گر امیر

اپنے رہنے کا مکاں دے ڈالتے مزدور کو

وہ صبح کو اس ڈر سے نہیں بام پر آتا

نامہ نہ کوئی باندھ دے سورج کی کرن میں

ترک شراب بھی جو کروں گا تو محتسب

توڑوں گا تیرے سر سے پیالہ شراب کا

ستارے گم ہوئے خورشید نکلا

عرق جب یار نے پونچھا جبیں سے

ستانا قتل کرنا پھر جلانا

وہ بے تعلیم کیا کیا جانتے ہیں

اسلام کا ثبوت ہے اے شیخ کفر سے

تسبیح ٹوٹ جائے جو زنار ٹوٹ جائے

جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی صاحب

یاد آئے گی تمہیں میری وفا میرے بعد

پروانے کے حضور جلایا نہ شمع کو

بلبل کے آگے پھول نہ توڑا گلاب کا

وہ ہوا خواہ چمن ہوں کہ چمن میں ہر صبح

پہلے میں آتا ہوں اور باد صبا میرے بعد

کون دریائے محبت سے اتر سکتا ہے پار

کشتیٔ فرہاد آخر کوہ سے ٹکرا گئی

لطف تب امرد پرستی کا ہے باغ خلد میں

پاس بیٹھے جبکہ غلماں اور کھڑی ہو حور دور

جی میں آتا ہے مے کشی کیجے

تاک کر کوئی سایہ دار درخت

گلشن عشق کا تماشا دیکھ

سر منصور پھل ہے دار درخت

اپنے مجنوں کی ذرا دیکھ تو بے پروائی

پیرہن چاک ہے اور فکر سلانے کی نہیں

مرتبہ معشوق کا عاشق سے بالا دست ہے

خار کی جا زیر پا گل کا مکاں دستار پر

دشمن کے کام کرنے لگا اب تو دوست بھی

تو اے رقیب درپئے آزار ہے عبث

نکلا نہ داغ دل سے ہمارا تو کوئی کام

نہ وہ چراغ دیر نہ شمع حرم ہوا

کیا خبر ہے ہم سے مہجوروں کی ان کو روز عید

جو گلے مل کر بہم صرف مبارک باد ہیں

آئے کبھی تو دشت سے وہ شہر کی طرف

مجنوں کے پاؤں میں جو نہ زنجیر جادہ ہو

عاشق کو نہ لے جائے خدا ایسی گلی میں

جھانکے نہ جہاں روزن دیوار سے کوئی

اگر عریانیٔ مجنوں پہ آتا رحم لیلیٰ کو

بنا دیتی قبا وہ چاک کر کے پردہ محمل کا

فریاد کی آتی ہے صدا سینے سے ہر دم

میرا دل نالاں ہے کہ انگریزی گھڑی ہے

وہ آئنہ تن آئینہ پھر کس لیے دیکھے

جو دیکھ لے منہ اپنا ہر اک عضو بدن میں

کوچۂ جاناں میں یارو کون سنتا ہے مری

مجھ سے واں پھرتے ہیں لاکھوں داد اور بیداد میں

خط نویسی یہ ہے تو مشتاقو

ہاتھ اک دن قلم تمہارے ہیں

وصل میں بھی نہیں مجال‌ سخن

اس رسائی پہ نارسا ہیں ہم

زلف پر پیچ کے سودے میں عجب کیا امکاں

گر الجھ جائے خریدار خریدار کے ساتھ

برسوں خیال یار رہا کچھ کھچا کھچا

اک دم مرا جو اور طرف دھیان بٹ گیا