Muzaffar Warsi's Photo'

مظفر وارثی

1933 - 2011 | لاہور, پاکستان

419
Favorite

باعتبار

زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

ہر شخص پر کیا نہ کرو اتنا اعتماد

ہر سایہ دار شے کو شجر مت کہا کرو

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن

ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے

اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح

مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا

جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں

بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا

تو چلے ساتھ تو آہٹ بھی نہ آئے اپنی

درمیاں ہم بھی نہ ہوں یوں تجھے تنہا چاہیں

when you walk with me the echo, of my steps should not intrude

I too should not be the between us, I want you in such solitude

when you walk with me the echo, of my steps should not intrude

I too should not be the between us, I want you in such solitude

وعدہ معاوضے کا نہ کرتا اگر خدا

خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہ

یہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

آئینہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی

ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں گا

سانس لیتا ہوں کہ پت جھڑ سی لگی ہے مجھ میں

وقت سے ٹوٹ رہے ہیں مرے بندھن جیسے

زخم تنہائی میں خوشبوئے حنا کس کی تھی

سایہ دیوار پہ میرا تھا صدا کس کی تھی