Payam Fatehpuri's Photo'

پیام فتحپوری

1923 - 2000 | فتح پور, ہندوستان

سکون دے نہ سکیں راحتیں زمانے کی

جو نیند آئی ترے غم کی چھاؤں میں آئی

نفس نفس پہ یہاں رحمتوں کی بارش ہے

ہے بد نصیب جسے زندگی نہ راس آئی

تاریخ کائنات عبادت جنوں سے ہے

عنوان عقل و ہوش ہے دیوانگی کی بات

ملامتوں سے جنوں میں نہ کچھ کمی آئی

جراحتوں سے بڑھی زخم دل کی رعنائی

خوشی وصال کی اب ہے نہ رنج تنہائی

یہ کس مقام پہ مجھ کو حیات لے آئی

پھیلا فضا میں نغمۂ زنجیر مرحبا

زنداں میں گھٹ کے رہ نہ سکی زندگی کی بات

عجیب شے ہے تصور کی کار فرمائی

ہزار محفل رنگیں شریک تنہائی