Quaiser Khalid's Photo'

قیصر خالد

1971 | ممبئی, انڈیا

قیصر خالد کے شعر

380
Favorite

باعتبار

میٹھی باتیں، کبھی تلخ لہجے کے تیر

دل پہ ہر دن ہے ان کا کرم بھی نیا

ڈال دی پیروں میں اس شخص کے زنجیر یہاں

وقت نے جس کو زمانے میں اچھلتے دیکھا

باتوں سے پھول جھڑتے تھے لیکن خبر نہ تھی

اک دن لبوں سے ان کے ہی نشتر بھی آئیں گے

مہمل ہے نہ جانیں تو، سمجھیں تو وضاحت ہے

ہے زیست فقط دھوکا اور موت حقیقت ہے

ہو پائے کسی کے ہم بھی کہاں یوں کوئی ہمارا بھی نہ ہوا

کب ٹھہری کسی اک پر بھی نظر کیا چیز ہے شہر خوباں بھی

اب اس طرح بھی روایت سے انحراف نہ کر

بدل اگرچہ تو اچھا نہ دے، خراب تو دے

آتش عشق سے بچئے کہ یہاں ہم نے بھی

موم کی طرح سے پتھر کو پگھلتے دیکھا

تیرے بن حیات کی سوچ بھی گناہ تھی

ہم قریب جاں ترا حصار دیکھتے رہے

عمر بھر کھل نہیں پاتے ہیں رموز و اسرار

لوگ کچھ سامنے رہ کر بھی نہاں ہوتے ہیں

کچھ تو ہی بتا آخر کیوں کر ترے بندوں پر

ہر شب ہے نئی آفت ہر روز مصیبت ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے