Salik Lakhnavi's Photo'

سالک لکھنوی

1913 - 2013 | کولکاتا, ہندوستان

سالک لکھنوی کی اشعار

645
Favorite

باعتبار

ساحل پہ قید لاکھوں سفینوں کے واسطے

میری شکستہ ناؤ ہے طوفاں لیے ہوئے

جو تیری بزم سے اٹھا وہ اس طرح اٹھا

کسی کی آنکھ میں آنسو کسی کے دامن میں

یہ بھی اک رات کٹ ہی جائے گی

صبح فردا کی منتظر ہے نگاہ

اپنی خودداری سلامت دل کا عالم کچھ سہی

جس جگہ سے اٹھ چکے ہیں اس جگہ پھر جائیں کیا

کہی کسی سے نہ روداد زندگی میں نے

گزار دینے کی شے تھی گزار دی میں نے

چاہا تھا ٹھوکروں میں گزر جائے زندگی

لوگوں نے سنگ راہ سمجھ کر ہٹا دیا

ناخدا ڈوبنے والوں کی طرف مڑ کے نہ دیکھ

نہ کریں گے نہ کناروں کی تمنا کی ہے

کھینچ بھی لیجئے اچھا تو ہے تصویر جنوں

آپ کی بزم میں کیا جانئے کل ہوں کہ نہ ہوں

یونہی انسانوں کے شہروں میں ملا اپنا وجود

کسی ویرانے میں اک پھول کھلا ہو جیسے

ستارے کی طرح سینے میں دل ڈوبا کیا لیکن

شب غم کے اندھیرے سے نہیں مانگی سحر ہم نے

بہار گلستاں ہم کو نہ پہچانے تعجب ہے

گلوں کے رخ پہ چھڑکا ہے بہت خون جگر ہم نے

محو یوں ہو گئے الفاظ دعا وقت دعا

ہاتھ سے ظرف طلب چھوٹ گیا ہو جیسے

مے خانۂ ہستی میں ساقی ہم دونوں ہی مجرم ہیں شاید

خم تو نے بچا کے رکھے تھے پیمانے میں نے توڑے ہیں

نگاہ مہر کہاں کی وہ برہمی بھی گئی

میں دوستی کو جو رویا تو دشمنی بھی گئی

نظر سے دیکھ تو ساقی اک آئینہ بنایا ہے

شکستہ شیشہ و ساغر کے ٹکڑے جوڑ کر ہم نے

منزل نہ ملی کشمکش اہل نظر میں

اس بھیڑ سے میں اپنی نظر لے کے چلا ہوں

مال و زر اہل دول سامنے یوں گنتے ہیں

ہم فقیروں نے نہ کچھ صرف کیا ہو جیسے

دل نے سینے میں کچھ قرار لیا

جب تجھے خوب سا پکار لیا

آج بھی ہے وہی مقام آج بھی لب پہ ان کا نام

منزل بے شمار گام اپنے سفر کو کیا کروں

مٹ چکے جو بھی تھے توبہ شکنی کے اسباب

اب نہ مے خانہ نہ پیمانہ نہ شیشہ نہ سبو

نگاہ شوق سے لاکھوں بنا ڈالے ہیں در ہم نے

قفس میں بھی نہیں مانی شکست بال و پر ہم نے

دھواں دیتا ہے دامان محبت

ان آنکھوں سے کوئی آنسو گرا ہے

زنداں میں اچانک ہے یہ کیا شور سلاسل

یہ سالکؔ بے باک کا ماتم تو نہیں ہے