Sirajuddin Zafar's Photo'

سراج الدین ظفر

1912 - 1972 | کراچی, پاکستان

سراج الدین ظفر

غزل 24

اشعار 4

ہجوم گل میں رہے ہم ہزار دست دراز

صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے

اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں

دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

  • شیئر کیجیے

وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں

ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات

ابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے

کتاب 4

آئینے

 

 

غزال و غزل

 

1968

غزال و غزل

 

1968

سراج الدین ظفر

 

1972

 

تصویری شاعری 1

شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤں رقص_وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں ساتھ اگر باد_سحر دے تو پس_محمل_یار اک بھٹکتی ہوئی آواز_فغاں ہو جاؤں اب یہ احساس کا عالم ہے کہ شاید کسی رات نفس_سرد سے بھی شعلہ_بجاں ہو جاؤں لا صراحی کہ کروں وہم_و_گماں غرق_شراب اس سے پہلے کہ میں خود وہم_و_گماں ہو جاؤں وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں شوق میں ضبط ہے ملحوظ مگر کیا معلوم کس گھڑی بے_خبر_سود_و_زیاں ہو جاؤں ایسا انداز_غزل ہو کہ زمانے میں ظفرؔ دور_آئندہ کی قدروں کا نشاں ہو جاؤں

 

ویڈیو 3

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

سراج الدین ظفر

دن کو بحر_و_بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے

سراج الدین ظفر

میں نے کہا کہ تجزیۂ_جسم_و_جاں کرو

سراج الدین ظفر

متعلقہ شعرا

  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی استاد

"کراچی" کے مزید شعرا

  • جون ایلیا جون ایلیا
  • آرزو لکھنوی آرزو لکھنوی
  • سلیم احمد سلیم احمد
  • سجاد باقر رضوی سجاد باقر رضوی
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • محسن احسان محسن احسان
  • قمر جلالوی قمر جلالوی
  • دلاور فگار دلاور فگار
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم