Sufi Tabassum's Photo'

صوفی تبسم

1899 - 1978 | لاہور, پاکستان

1.84K
Favorite

باعتبار

اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی

دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی

دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں

نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے

آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی

آج تبسمؔ سب کے لب پر

افسانے ہیں میرے تیرے

کتنی فریادیں لبوں پر رک گئیں

کتنے اشک آہوں میں ڈھل کر رہ گئے

ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا

ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

it should not be that this ache intensifies past remedy

it should not happen even you do not have a cure for me

it should not be that this ache intensifies past remedy

it should not happen even you do not have a cure for me

جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے

درد کے عنواں بدل کر رہ گئے

کھل کے رونے کی تمنا تھی ہمیں

ایک دو آنسو نکل کر رہ گئے

اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے

بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

ہم ہوئے کیسے جدا یاد نہیں

اک فقط یاد ہے جانا ان کا

اور کچھ اس کے سوا یاد نہیں

کون کس کا غم کھائے کون کس کو بہلائے

تیری بے کسی تنہا میری بے بسی تنہا

حسن کا دامن پھر بھی خالی

عشق نے لاکھوں اشک بکھیرے

روز دہراتے تھے افسانۂ دل

کس طرح بھول گیا یاد نہیں

میں تحفہ لے کے آیا ہوں تمناؤں کے پھولوں کا

لٹانے کو بہار زندگانی لے کے آیا ہوں

ملتے گئے ہیں موڑ نئے ہر مقام پر

بڑھتی گئی ہے دوریاں منزل جگہ جگہ

ایک شعلہ سا اٹھا تھا دل میں

جانے کس کی تھی صدا یاد نہیں