Tahir Adeem's Photo'

طاہر عدیم

1973 | جرمنی

طاہر عدیم کی اشعار

فقط تم ہی نہیں ناراض مجھ سے جان جاناں

مرے اندر کا انساں تک خفا ہے انتہا ہے

رنگ کیا عجب دیا میری بے وفائی کو

اس نے یوں کیا کہ میرے خط جلائے عود میں

نہیں ہے رہنا اسے بھی بہار میں طاہرؔ

مجھے بھی موسم شاداب سے نکلنا ہے

مجھے وہ چھوڑ کر جب سے گیا ہے انتہا ہے

رگ و پے میں فضائے کربلا ہے انتہا ہے

اسے بھی پردۂ تہذیب کو گرانا ہے

مجھے بھی پیکر نایاب سے نکلنا ہے

ہر ایک رستۂ پایاب سے نکلنا ہے

سراب عمر کے ہر باب سے نکلنا ہے