Tilok Chand Mahroom's Photo'

تلوک چند محروم

1887 - 1966 | دلی, ہندوستان

مشہور اردو اسکالر اور شاعر جگن ناتھ آزاد کے والد

مشہور اردو اسکالر اور شاعر جگن ناتھ آزاد کے والد

404
Favorite

باعتبار

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

اٹھانے کے قابل ہیں سب ناز تیرے

مگر ہم کہاں ناز اٹھانے کے قابل

اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا

موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی

عقل کو کیوں بتائیں عشق کا راز

غیر کو راز داں نہیں کرتے

مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاک

مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی

یوں تو برسوں نہ پلاؤں نہ پیوں اے زاہد

توبہ کرتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری

بعد ترک آرزو بیٹھا ہوں کیسا مطمئن

ہو گئی آساں ہر اک مشکل بہ آسانی مری

نہ علم ہے نہ زباں ہے تو کس لیے محرومؔ

تم اپنے آپ کو شاعر خیال کر بیٹھے

صاف آتا ہے نظر انجام ہر آغاز کا

زندگانی موت کی تمہید ہے میرے لیے

ہوں وہ برباد کہ قسمت میں نشیمن نہ قفس

چل دیا چھوڑ کر صیاد تہ دام مجھے

یہ فطرت کا تقاضا تھا کہ چاہا خوب روؤں کو

جو کرتے آئے ہیں انساں نہ کرتے ہم تو کیا کرتے

نہ رہی بے خودی شوق میں اتنی بھی خبر

ہجر اچھا ہے کہ محرومؔ وصال اچھا ہے

دل کے طالب نظر آتے ہیں حسیں ہر جانب

اس کے لاکھوں ہیں خریدار کہ مال اچھا ہے

دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے

ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے

ہے یہ پر درد داستاں محرومؔ

کیا سنائیں کسی کو حال اپنا

دام غم حیات میں الجھا گئی امید

ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی

برا ہو الفت خوباں کا ہم نشیں ہم تو

شباب ہی میں برا اپنا حال کر بیٹھے

گدا نہیں ہیں کہ دست سوال پھیلائیں

کبھی نہ آپ نے پوچھا کہ آرزو کیا ہے

بظاہر گرم ہے بازار الفت

مگر جنس وفا کم ہو گئی ہے

فکر معاش و عشق بتاں یاد رفتگاں

ان مشکلوں سے عہد برآئی نہ ہو سکی