Waheed Akhtar's Photo'

وحید اختر

1935 - 1996 | علی گڑہ, ہندوستان

ممتاز ترین جدید شاعروں اور نقادوں میں نمایاں

ممتاز ترین جدید شاعروں اور نقادوں میں نمایاں

407
Favorite

باعتبار

ہزاروں سال سفر کر کے پھر وہیں پہنچے

بہت زمانہ ہوا تھا ہمیں زمیں سے چلے

نیند بن کر مری آنکھوں سے مرے خوں میں اتر

رت جگا ختم ہو اور رات مکمل ہو جائے

بے برسے گزر جاتے ہیں امڈے ہوئے بادل

جیسے انہیں میرا ہی پتا یاد نہیں ہے

مانگنے والوں کو کیا عزت و رسوائی سے

دینے والوں کی امیری کا بھرم کھلتا ہے

مری اڑان اگر مجھ کو نیچے آنے دے

تو آسمان کی گہرائی میں اتر جاؤں

بت بنانے پوجنے پھر توڑنے کے واسطے

خود پرستی کو نیا ہر روز پتھر چاہئے

ٹھہری ہے تو اک چہرے پہ ٹھہری رہی برسوں

بھٹکی ہے تو پھر آنکھ بھٹکتی ہی رہی ہے

عمر بھر ملتے رہے پھر بھی نہ ملنے پائے

اس طرح مل کہ ملاقات مکمل ہو جائے

ہر ایک لمحہ کیا قرض زندگی کا ادا

کچھ اپنا حق بھی تھا ہم پر وہی ادا نہ ہوا

مسجد ہو مدرسہ ہو کہ مجلس کہ مے کدہ

محفوظ شر سے کچھ ہے تو گھر ہے چلے چلو

دشت کی اڑتی ہوئی ریت پہ لکھ دیتے ہیں لوگ

یہ زمیں میری یہ دیوار یہ در میرا ہے

خشک آنکھوں سے اٹھی موج تو دنیا ڈوبی

ہم جسے سمجھے تھے صحرا وہ سمندر نکلا

اندھیرا اتنا نہیں ہے کہ کچھ دکھائی نہ دے

سکوت ایسا نہیں ہے جو کچھ سنائی نہ دے

اک دشت بے اماں کا سفر ہے چلے چلو

رکنے میں جان و دل کا ضرر ہے چلے چلو

جو سننا چاہو تو بول اٹھیں گے اندھیرے بھی

نہ سننا چاہو تو دل کی صدا سنائی نہ دے

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائے

منتظر دل کی مناجات مکمل ہو جائے

ابر آنکھوں سے اٹھے ہیں ترا دامن مل جائے

حکم ہو تیرا تو برسات مکمل ہو جائے

لیتے ہیں ترا نام ہی یوں جاگتے سوتے

جیسے کہ ہمیں اپنا خدا یاد نہیں ہے

بام و در و دیوار کو ہی گھر نہیں کہتے

تم گھر میں نہیں ہو تو مکاں ہے بھی نہیں بھی

کرنوں سے تراشا ہوا اک نور کا پیکر

شرمایا ہوا خواب کی چوکھٹ پہ کھڑا ہے

بچھڑے ہوئے خواب آ کے پکڑ لیتے ہیں دامن

ہر راستہ پرچھائیوں نے روک لیا ہے

یاد آئی نہ کبھی بے سر و سامانی میں

دیکھ کر گھر کو غریب الوطنی یاد آئی

زیر پا اب نہ زمیں ہے نہ فلک ہے سر پر

سیل تخلیق بھی گرداب کا منظر نکلا