aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",hEEI"
ساحر لدھیانوی
1921 - 1980
شاعر
تاباں عبد الحی
1715 - 1749
مشفق خواجہ
1935 - 2005
مصنف
ایس ایچ بہاری
1920 - 1987
عبدالحیٔ عارفی
ماہر عبدالحی
امۃ الحئی وفا
آشفتہ شاجہاں پوری
قیصر عثمانی
1919 - 2000
ایچ بی بلوچ
born.1978
حکیم سید عبدالحئی
1869 - 1923
ڈبلیو۔ ایچ۔ مورلینڈ
ایچ۔ جی۔ ویلز
بلال عبدالحی حسنی ندوی
شہلا ایچ نقوی
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
عمر گزرے گی امتحان میں کیاداغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
اہم ترقی پسند شاعر، ان کی کچھ غزلیں ’ بازار‘ اور ’ گمن‘ جیسی فلموں کے سبب مقبول
हीہی
سنسکرت
(قواعد) ’’ہی ‘‘ جب اسماء و ضمائر وغیرہ سے مل کر آئے تو جملے میں فاعلی ، مفعولی ، اضافی ، مجروری علامتیں عموماً ’’ہی‘‘ کے بعد آتی ہیں
hiehie
جَلْد
किکِہ
کسی بات کی وضاحت یا بیان کے لیے جُملۂ بیانیہ کے شروع میں آتا ہے.
हेحے
عربی
حرف ”حے“ کا اردو تلفّظ.
آپ مسافر آپ ہی منزل
مومن اقبال عثمان
اشعار
لطیفے ہی لطیفے
ندرت جہاں
تفریحات
گیت ہی گیت
میراجی
گیت
تقسیم ہند 1947
منصور احمد
سیاسی
دل ہی تو ہے
ایملی زولا
ناول
ایک ہی چہرہ تھا گھر میں
خوشبیر سنگھ شادؔ
غزل
جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی
کلیم عاجز
مجموعہ
ہی ہی! ہا ہا!
سعید لخت
لطیفے
چھلکے ہی چھلکے
فکر تونسوی
خاکے/ قلمی چہرے
نعت ہی نعت
محمد مسعود خاں
نعت
پہلی بات ہی آخری تھی
منیر نیازی
محنت ہی زندگی ہے
شیام سنگھ ششی
افسانہ
کرنیں ایک ہی مشعل کی
انجم نیازی
حسینہ کانپوری
رومانی
پھول ایک ہی چمن کے
کوثر صدیقی
نظم
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہمبچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھاآنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
بھلے دنوں کی بات ہےبھلی سی ایک شکل تھی
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوستسب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گامگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہےآج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتاایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books