aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".babr"
بشیر بدر
born.1935
شاعر
میر انیس
1803 - 1874
ہمانشی بابرا
ادریس بابر
born.1973
امداد علی بحر
1810 - 1878
بدر منیر
بدر واسطی
اسنی بدر
born.1971
آغا بابر
1919 - 1998
مصنف
ابوبکر عباد
born.1968
الیاس بابر اعوان
born.1976
بابر رحمان شاہ
born.1994
نادر عریض
born.1993
بابا فرید
1173/88 - 1266/80
نعمان بدر
born.1991
جو درویش پہنے ہے ببری لباستو پھر عینہ شیر ہے ببر ہے
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھاکشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
سنا دیں عصمت مریم کا قصہپر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کیبڑی آرزو تھی ملاقات کی
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "محبوب سے باتیں کرنا" اصطلاح میں غزل شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں بحر، قافیہ اور ردیف کی رعایت کی گئی ہو۔اور غزل کا ہر شعر اپنی جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع اور آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
امداد علی بحر کے 20 منتخب شعر
مقبول شاعر، ساہتیہ اکادمی اور پدم شری انعام یافتہ۔
बारبار
سنسکرت, فارسی, ہندی
مرتبہ، دفعہ، نوبت
बा'रبَعْر
ब'अरبَعَر
عربی
مینگنی بکری اونٹ وغیرہ کا پاخانہ
क़ब्रقَبْر
وہ گڑھا جس میں مردے کو دفن کرتے ہیں، گور
ترجمہ تزک بابری اردو
ظہیر الدین بابر
تاریخ
پارلیمنٹ سے بازار حسن تک
ظہیر احمد بابر
سیاسی
تاریخ ادب اردو
رام بابو سکسینہ
غیر افسانوی ادب
جدید اردو غزل
ڈاکٹر راحت بدر
شاعری تنقید
بحر الفصاحت
نجم الغنی خان نجمی رامپوری
زبان
ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعری
انجم بارہ بنکوی
انتخاب
آس
غزل
بحر المعانی
محمد بن نصرالدین جعفر مکی حسینی
خط
آزادی کے بعد کی غزل کا تنقیدی مطالعہ
ابر گہر بار
مرزا غالب
مثنوی
بابائے اردو مولوی عبد الحق
شہاب الدین ثاقب
تحقیق
تلخیص بحرالفصاحت
غزل یونیورس
مجھے وفا سے بیر ہےیہ بات آج کی نہیں
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گامگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گییوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہوکہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں
بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کااور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے
بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوصجو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظرتیری مہر و وفا کے باب آئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books