aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".bazq"
مرزارضا برق ؔ
1790 - 1857
شاعر
برق دہلوی
1884 - 1936
عاشق حسین بزم آفندی
مصنف
لالہ رکھا رام برق
شو رتن لال برق پونچھوی
بزم اکبرآبادی
برق آشیانوی
born.1918
رحمت الٰہی برق اعظمی
1911 - 1983
شیام سندر لال برق
1870 - 1941
طلحہ رضوی برق
born.1941
غلام جیلانی برق
1901 - 1985
مدیر
بزم انصاری
born.1922
بزم صدف انٹرنیشنل
عطیہ کار
مہیندر سنگھ برق
برق حیدرآبادی
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافلگرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوصجو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
جل اٹھے بزم غیر کے در و بامجب بھی ہم خانماں خراب آئے
نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاببازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
احسان کرنا ،احسان کرکے اس کا بدلہ چاہنا ،احسان فراموش ہوجانا ، احسان کے پردے میں تکلیف پہنچانا یہ سارے تجربے روز مرہ کے انسانی تجربے ہیں ۔ ہم ان سے گزرتے بھی ہیں اور اپنی عام زندگی میں ان کا گہرا احساس بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن شاعری ان تمام تجربوں کی جس گہری سطح سے ہمیں روشناس کراتی ہے اس سے زندگی کا ایک نیا شعور حاصل ہوتا ۔ عشق و عاشقی کے بیانیے میں احسان کی اور بھی کئی مزے دار صورتیں سامنے آئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرکے چھا جانے والی اداسی کچھ میٹھی سی ہوتی ۔ اس کا ذائقہ تو آپ نے چکھا ہی ہوگا ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے جو ہم میں سے ہر شخص کے ماضی کی بازدید کرتا ہے اور گزرے ہوئے لمحوں کی یادوں کو زندہ کرتا ہے ۔
کشتی ،ساحل ، سمندر ، ناخدا ، تند موجیں اور اس طرح کی دوسری لفظیات کو شاعری میں زندگی کی وسیع تر صورتوں کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے ۔ کشتی دریا کی طغیانی اور موجوں کی شدید مار سے بچ نکلنے اور ساحل پر پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کشتی کی اس صفت کو بنیاد بنا کر بہت سے مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔ کشتی کے حوالے سے اور بھی کئی دلچسپ جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
बज़्म بَزْم
فارسی
محفل، مجلس (خواہ عیش و طرب کی ہو یا رنج و غم کی) دربار، کسی تقریب میں بہت سے آدمیوں کا اجتماع
बाज़ा بازا
نوے (۹۰) استار (رک) کے برابر ایک وزن .
बाज़ी بازی
کھیل، تماشا، کرتب
बाज़े بازے
رک: بعضے، بعض.
گلدستہ بیت بازی
وسیم اقبال صدیقی
بیت بازی
علامہ اقبال کے اشعار
علامہ اقبال
اشعار
شجاع الدین فاروقی
آپ مسافر آپ ہی منزل
مومن اقبال عثمان
مقابلہ آرائی
عبدالباری ایم کے
بزم انیس
میر انیس
مرثیہ
دلچسپ اصلاحی بیت بازی
اختر سلطان اصلاحی
عجب ہوتے ہیں شاعر بھی
شاہد بلال
انتخاب
نامعلوم مصنف
رہنمائے بیت بازی
کاظم علی خاں
بزم خوش نفساں
شاہد احمد دہلوی
خاکے/ قلمی چہرے
بزم تیموریہ
سید صباح الدین عبد الرحمن
ہندوستانی تاریخ
فرحان منظر
معجم البلدان
اشاریہ
اردو غزل میں شاہد بازی
ظہور شہداد اظہر
شاعری تنقید
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دیبڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترا
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتاترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگتتمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تیغ بازی کا شوق اپنی جگہآپ تو قتل عام کر رہے ہیں
واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضعراہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہے لگاؤں بازیاگر میں جیتا تو تم ہو میرے اگر میں ہارا تو میں تمہارا
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیںوہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستیآ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے
کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والونہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے
اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جامہمان نظر اس دم اک برق تجلی ہے
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سےبزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books