aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".jmn"
جاں نثار اختر
1914 - 1976
شاعر
مظہر مرزا جان جاناں
1699 - 1781
حیرت الہ آبادی
1835 - 1892
عیش دہلوی
1779 - 1874
شاد لکھنوی
1805 - 1899
میر یار علی جان
1812 - 1879
حکیم آغا جان عیش
جان کاشمیری
کامران جان مشتری
born.1837
قتیل راجستھانی
مصنف
فیروز
born.1947
سید احمد جان
راز عظیم
born.1932
احمد جان زاہدی تبسم
مرزا جان تپش
1768 - 1814
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروماے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پرکیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
وصال جاں فزا تو کیافراق جاں گسل کی بھی
جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
جاں نثاراختر کو ایک شاعر کے طور پر ان کی نمایاں خدمات کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ جنہوں نے رومانوی اور انقلابی دونوں موضوعات میں مہارت حاصل کی۔ہم یہاں ان کی کچھ نظموں کا انتخاب پیش کر رہے ہیں۔پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔
اختر الایمان کی ۱۰ بہترین نظمیں
ممتاز جدید شاعروں میں شامل، نغمہ نگار،فلم ’امراؤ جان‘ کے گیتوں کے لیے مشہور۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ۔
जाँجاں
فارسی
رک: جہاں (=جس جگہ).
जूँجُوں
سنسکرت
ایک چھوٹا سا کیڑا جو بالوں یا کپڑوں میں میل یا پسنیے سے پیدا ہو جاتا ہے، سپُش، چیلڑ
जानجان
علم، دانست، پہچان، واقفیت، آگہی
जूँ किجُوں کِہ
مثل ، مانٗند ، جیسے ۔
زیر لب
صفیہ اختر
تاریخ و تنقید
بیاض جاں
آغا سروش
نعت
امراؤ جان ادا: ایک خصوصی مطالعہ
شاہد جمیل
فکشن تنقید
امراؤ جان ادا
ابواللیث صدیقی
جان غزل
بال سوروپ راہی
امراؤجان ادا
مرزا ہادی رسوا
ناول
خیمہ جاں
محسن نقوی
مجموعہ
کلیات جاں نثار اختر
کلیات
مرزا مظہر جان جاناں
سید تبارک علی نقش بندی
تحقیق
جاں نثار اختر کی شاعری
امر دہلوی
انتخاب
آدھا ادھورا جن
مسرت بانو شیخ
ڈراما
گھر آنگن
رباعی
کلمات طیبات
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
خطوط
معاشرتی
تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیےیعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی
جان کر سوتا تجھے وہ قصد پا بوسی مرااور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ہے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیںتجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کیہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پراس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہےاے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
جن زخموں کو وقت بھر چلا ہےتم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books