aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".rev"
ناصر راؤ
born.1990
شاعر
سلیم رضا ریوا
born.1975
عاشر وکیل راؤ
جیمس ہیڈلے چیز
1906 - 1985
مصنف
رائنر ماریا رلکے
1875 - 1926
چارلس ریو
این۔ وینکٹیشورا راو
اے۔ کالیشور راؤ
کالوجی رامیشور راؤ شاد
یو۔یس۔موہن راؤ
شانتا رامیشور راؤ
رینی ڈیکارٹ
پی۔ رام گوپال راؤ
ناشر
نروپما راو
ماروتی راؤ جوشی
مدیر
تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سراب
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھاریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگیتیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا
اللہ رے فریب مشیت کہ آج تکدنیا کے ظلم سہتے رہے خامشی سے ہم
گاؤں ہر اس شخص کے ناسٹلجیا میں بہت مضبوطی کے ساتھ قدم جمائے ہوتا ہے جو شہر کی زندگی کا حصہ بن گیا ہو ۔ گاؤں کی زندگی کی معصومیت ، اس کی اپنائیت اور سادگی زندگی بھر اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ ان کیفیتوں سے ہم میں سے بیشتر گزرے ہوں گے اور اپنے داخل میں اپنے اپنے گاؤں کو جیتے ہوں گے ۔ یہ انتخاب پڑھئے اور گاؤں کی بھولی بسری یادوں کو تازہ کیجئے ۔
خودی انسان کے اپنے باطن اور اپنے وجود کو پہچاننے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کئی شاعروں نے خودی کے فلسفے کو منظم انداز سے اپنی فکری اور تخلیقی اساس کے طور پر برتا ہے ، اگرچہ اس طرح کے مضامین شاعری میں عام رہے ہیں لیکن اقبال کے یہاں یہ رویہ حاوی ہے ۔ اس شاعری کی قرأت آپ کو اپنی وجودی عظمتوں کا احساس بھی دلائے گی ۔
شعرپر یا شاعری پرکی جانے والی شاعری کئی معنی میں اہم ہے ۔ یہ شاعری ہمیں شعر سازی کی ترکیبوں اورفن کی باریکیوں سے بھی آگاہ کرتی ہے اوربعض اوقات شاعری کے مقاصد اوراس سےمتعلق بہت سےمعاملات پرروشنی ڈالتی ہے۔
retret
نَم
रेतریت
سنسکرت
دردری اور خشک مٹی، بالو، ریگستانی مٹی، ریگ
क्यों रेکیوں رے
رک : کیوں بے.
रेवریو
فارسی
छल, कपट, मक, फ़िरेब ।।
مذہب ہنودودرگا دیوی
ریت پر لکیریں
محمد خالد اختر
مضامین
ریت کا دروازہ
طاہر بن جیلون
ناول
خواب گاہ میں ریت
مبشر سعید
غزل
ریت اور جھاگ
جبران خلیل جبران
ترجمہ
خارزار ہجو
م ۔ ع ۔ ظ ۔ ر
شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ
ریڈ کراس کی کہانی
کرشنا ستیہ نند
عالمی تاریخ
ریت پر خیمہ
جابر حسین
ڈائری
مٹھی بھر ریت
دیپک بدکی
کہانی
مٹی، ریت، چٹان
بیکل اتساہی
مجموعہ
ریت پہ بہتا پانی
قاسم یعقوب
نظم
خامہ گل ریز
محمد سفیان قاسمی
ریت پر خون
نور ظہیر
ریت میں گم شدہ لفظ
محمود شاہد
رستہ رستہ ریت
سرفراز شاکر
میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کیبکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سببصحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی
یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئیوہ لہر کس طرف گئی یہ میں کہاں سما گیا
مرگ جگرؔ پہ کیوں تری آنکھیں ہیں اشک ریزاک سانحہ سہی مگر اتنا اہم نہیں
بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سےمیں صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا
مجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میںدرد کی ریت چھانتا ہوں
دشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھاریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا
ظلم کے دور سے اکراہ دلی کافی ہےایک خوں ریز بغاوت ہو ضروری تو نہیں
بے نیاز کف دریا انگشتریت پر نام لکھا کرتی ہے
حسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books