aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".spr"
علامہ اقبال
1877 - 1938
شاعر
سر سید احمد خاں
1817 - 1898
مصنف
مہاراج سرکشن پرشاد شاد
1864 - 1940
شنکر لال شنکر
رائیڈر ہیگرڈ
1856 - 1925
سرفلورنس فیلوز مطلوبؔ
1829 - 1912
شیخ عبد القادر
1874 - 1950
آرتھر کانن ڈائل
1859 - 1930
شفقت علی شفق
1930 - 2014
سر محمد یامین خاں
born.1888
نواب سر امین جنگ
سر خوش
سر مورس گویر
سور ساگر
السرالصالح بن غالب
برہنہ ہیں سر بازار تو کیابھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیںپس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو
کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغازکبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے
جان کر سوتا تجھے وہ قصد پا بوسی مرااور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ہے
सर' صَرْع
مرگی کا مرض
عربی
सर سَر
جسم کا سب سے بالائی حصہ، کھوپڑی نیز گردن سے اوپر کا پورا حصہ
پراکرت, فارسی
सिर سِر
सर-ए-मू سَرِ مُو
(in neg.) slight, little
فارسی
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
سرسید احمد خاں اور ان کے نامور رفقاء
سید عبداللہ
تنقید
سر سید اور علی گڑھ تحریک
خلیق احمد نظامی
ادبی تحریکیں
آثار الصنادید
تاریخ
انتخاب مضامین سر سید
مقالات/مضامین
اسباب بغاوت ہند
ہندوستانی تاریخ
مقالات سر سید
اردو صحافت اور سرسید احمد خاں
عبد الحی
صحافت
سرسید احمد خاں اور ان کا عہد
ثریا حسین
تحقیق
اصول نفسیات
سر ولیم جیمس
نفسیات
سر سنگھار
خالد ملک حیدر
موسیقی
مضامین
سرسید اور ان کے کارنامے
نور الحسن نقوی
خطبات احمدیہ
خطبات
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزلہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیںپاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہےالزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفاوہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے
اور اہل حکم کے سر اوپر
پیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتاحیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتناہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والےسمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناںسر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میں
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گااتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےسر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books