aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".usv"
حفیظ جالندھری
1900 - 1982
شاعر
بسمل سعیدی
1901 - 1976
والی آسی
1939 - 2002
آسی غازی پوری
1834 - 1917
آسی الدنی
1893 - 1946
عیش دہلوی
1779 - 1874
پنڈت ودیا رتن عاصی
1938 - 2019
اشونی متل عیش
born.1992
آس فاطمی
born.1987
عاصی فائقی
born.1930
حکیم آغا جان عیش
آسی رام نگری
عاصی کرنالی
1927 - 2011
آسی آروی
born.1921
عاصی کاشمیری
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
ہے نسیم بہار گرد آلودخاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
سنا دیں عصمت مریم کا قصہپر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گےجانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
usus
حَم
उसاُس
سنسکرت
’وہ‘ کی مغیرہ حالت جو’وہ‘ س پہلے پر، تک سے، کا، کو، میں، نے، وغیرہ (حرف ربط علامت ظرف یا حرف اضافت) آجانے سے پیدا ہوتی ہے، جیسے اُس پر، اُس کو، اُس پار اُس طرف، اُس کا
useuse
فائِدَہ
उसेاُسے
اس کو
اردو غزل کا تاریخی ارتقا
غلام آسی رشیدی
شاعری تنقید
اخبار الصنادید
نجم الغنی خان نجمی رامپوری
ہندوستانی تاریخ
آثار الصنادید
سید احمد خاں
تاریخ
آس
بشیر بدر
غزل
اس نظم میں
میراجی
انتخاب
اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت اور ہم عصر رجحانات: ایک جائزہ
قمر رئیس
طنز و مزاح تاریخ و تنقید
سلطان الشہداء حضرت سید سالار مسعود غازی
ظفر احسن بہرائچی
اسم اعظم
شہریار
مجموعہ
مسالک السالکین فی تذکرۃ الواصلین
مرزا عبد الستار بیگ سہسرامی
قادریہ
اردو کی ظریفانہ شاعری اور اس کے نمایندے
فرمان فتح پوری
مکمل شرح کلام غالب
شرح
ہم عصر اردو ناول
ناول تنقید
نکات الشعراء
میر تقی میر
تذکرہ
تذکرہ اطباء عصر
سید ظل الرحمٰن
طب
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلودھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کوئی بھی رت ہو اس کی چھبفضا کا رنگ روپ تھی
کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیںبارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جاکہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books