aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Daaliyaa.n"
دانیال طریر
1980 - 2015
شاعر
دانیال حیدر جعفری
born.2003
دیوڈ ڈالن
مصنف
پیوش دئیا
عطیہ کار
پیوش دہیہ
موج دریا پبلشر
ناشر
مخدوم شیخ احمد لنگر دریا بلخی فردوسی
خوش دلان پبلی کیشنز، بنگلور
مطبع دریائے لطافت، کانپور
پرنٹ سینٹر دریا گنج، نئی دہلی
مکتبہ دانیال، کراچی
مکتبہ دانیال، لاہور
موہن سنگھ مالک پنج دریا، لاہور
خوش دلان جودھپور (راجستھان)
درمیان مشن پریس، امرتسر
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں
دریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہے
رنگ سنگیت سر پھول کلیاں شجرصبح دم پیڑ کی جھومتی ڈالیاں
کہیں پتوں کے اندر دھیمی دھیمی سرسراہٹ ہےابھی ہلنے لگیں گی ڈالیاں آہستہ آہستہ
میری نظر سے ڈالیاں چھو کر ہری ہوئیںکھلنے لگے گلاب مرے دیکھنے کے بعد
دریا کا استعمال کلاسیکی شاعری میں کم کم ہے اور اگر ہے بھی تو دریا اپنے سیدھے اور سامنے کے معنی میں برتا گیا ہے ۔ البتہ جدید شاعروں کے یہاں دریا ایک کثیرالجہات استعارے طور پر آیا ہے ۔ وہ کبھی زندگی میں سفاکی کی علامت کے طور پر اختیار کیا گیا ہے کہ جو اس کے سامنے آتا ہے اسے بہا لے جاتا اور کبھی اس کی روانی کو زندگی کی حرکت اور اس کی توانائی کے استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ دریا پر ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو یقیناً پسند آئے گا ۔
ریختہ کی جانب سے عالمی یوم خواتین کے موقع پر تمام خواتین کو خراج عقیدت پیش کیاجاتا ہے۔
डालियाڈالِیا
ڈال سے آب پاشی کرنے والا
तालियाँتالْیاں
سنسکرت
تالی کی جمع تراکیب میں مستعمل
वलियाँوَلِیاں
عربی
(دکن) ولی کی جمع، بہت سارے ولی، اولیاء
दलियाدَلْیا
ہندی
دلا ہوا اناج، جَو، جوار، گیہوں وغیرہ کا دانے دِار آٹا، جو بجائے پیسنے کے چورا کر لیا گیا ہو، موٹا پسا ہوا غلہ
دل دریا سمندر
واصف علی واصف
مضامین
آنکھ اور خواب کے درمیان
ندا فاضلی
مجموعہ
پیاس کا دریا
بی کے ورما شیدی
غزل
دریا
عرفان صدیقی
شکستہ بتوں کے درمیان
سلام بن رزاق
افسانہ
آگ کا دریا
قرۃالعین حیدر
ناول
محبت ایسا دریا ہے
امجد اسلام امجد
نظم
شیردریا
رضا علی عابدی
مثنوی دریاے عشق
میر تقی میر
مثنوی
اوپر نیچے اور درمیان
سعادت حسن منٹو
ضبط شدہ کتابیں
اگر دریا ملا ہوتا
قیصر الجعفری
دھوپ دریا
شکیل اعظمی
معنی فانی
دشمنوں کے درمیان شام
منیر نیازی
لایعنیت کا انکار
ہائے مجھ سے نہ دیکھا جائے آیا ہوا کا جھونکا آیاڈالیاں لرزیں ٹہنیاں کانپیں لو وہ سوکھا پتا ٹوٹا
ڈھونڈیں گے اب پرند کہاں شام کو پناہجنگل کی آگ کھا گئی سب ڈالیاں درخت
کچھ برق سوز تنکے مجھے چاہئیں شکیبؔجھک جائیں گل کے بار سے وہ ڈالیاں نہیں
لہرا دیا ہے کھیت کو ہلتی ہیں بالیاںپودے بھی جھومتے ہیں لچکتی ہیں ڈالیاں
درختوں کو بھی شاید ہجرتوں کے رنگ چکھنے ہیںٹہلتی ڈالیاں کہتی ہیں پیڑوں کی پریشانی
گل زار میںسبزے لچکتی ڈالیاں گنجان، سندر جھاڑیاں
ہزار ہا مرے لب ہمکنار زہر ہوئےہزار ہا مرے جسموں کی ڈالیاں ٹوٹیں
پھلوں کے بوجھ سے لچک گئی ہیں ڈالیاں مگرابھی تلک گلاب سی ہتھیلیاں اداس ہیں
دو چار سال اور بھی امکاں نہیں تو کیافصل بہار آئے گی جھومیں گی ڈالیاں
بوٹا سا تن تھا پہلو میں اور کنڈلی مار کےسینے پہ سانپ جیسی تھیں باہوں کی ڈالیاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books