aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "HoWJ"
امام کاؤ۔ ہاؤ۔ جان
مصنف
کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشتپھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں
روئیں گے یہ تو گھر سے نکل آئے گی بتولہووے نہ رنج میرے کسی نور عین کو
نہ ہووے اسے جگ میں ہرگز قرارجسے عشق کی بے قراری لگے
قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔوہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
کونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاں
غزل کا سفر بہت لمبا رہا ہے - اس سفر میں غزل صنف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، بلکہ اشعار کے مضمون وقت کے ساتھ بدلتے گئے- غزل کے اس لمبے سفر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس صنف نے شہریوں کو وو آزادی دی، جسسے وہ اپنے خیال کو خوبصورتی سے پیش کر سکیں - حاضر ہے چند ایسی ہی بہترین غزلیں، پڑھئے اور لطف لیجئے-
دوستی کا جذبہ ایک بہت پاک اور شفاف جذبہ ہے ۔ اس سے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے ، سمجھنے اور ایک دوسرے کیلئے جینے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ شاعروں نے اس اہم انسانی جذبے اور رشتے کو بہت پھیلاؤ کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ دوستی پر کی جانے والی اس شاعری کے اور بھی کئی ڈائمینشن ہیں ۔ دوستی کب اور کن صورتوں میں دشمنی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ؟ ہم سب اگرچہ اپنی عام زندگی میں ان حالتوں سے گزرتے ہیں لیکن شعوری طور پر نہ انہیں جان پاتے ہیں اور نہ سمجھ پاتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور ان انجانی صورتوں سے واقفیت حاصل کیجئے ۔
نئے سال کے موقے پر ہم آپکے ساتھ چنندہ نظمیں ساجھا کر رہے ہیں۔
होवेہووے
ہوونا (رک) کی تمنائی شکل، بجائے ہو، ہوئے
howlhowl
آہ و زاری کرنا
howhow
होजہوز
فارسی
चकित, हैरान, त्रस्त, खौफ़ज़दः ।
ہاؤ ٹو ریڈ اقبال؟
شمس الرحمن فاروقی
اقبالیات تنقید
ہاؤ ناٹ ٹو رائٹ دی ہسٹری اردو لیٹریچر
رالف رسل
ہندو مسلم لیونگ ٹوگیدر ھاؤ؟
اقبال احمد انصاری
ایک زمانہ ختم ہوا ہے
ناصر عباس نیر
افسانہ
یاد محبوب فراموش نہ ہووے اے دلحسن نیت نے مجھے عشق سے نعمت دی ہے
روکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیر
ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیبخضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے
شادی سے گزر کہ غم نہ ہووےاردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
سخن کریے تو ہووے حرف زن یوںبس اب منہ موند لے میں نے سنا ہے
جعفری ہووے یا کہ ہو حنفیجین مت ہووے یا ہو ویشنوی
ملیے اس شخص سے جو آدم ہووےناز اس کو کمال پر بہت کم ہووے
غم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہےحضرت رمضاں گئے تشریف لے اب عید ہے
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایساکہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
وصل میں گر ہووے مجھ کو رویت ماہ رجبروئے جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books