aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHumaarii"
دشینت کمار
1933 - 1975
شاعر
خمار بارہ بنکوی
1919 - 1999
کمار وشواس
born.1970
شیو کمار بٹالوی
1937 - 1973
مینا کماری ناز
1933 - 1972
نریش کمار شاد
1927 - 1969
وپل کمار
born.1993
ابھیشیک کمار امبر
born.2000
کمار پاشی
1935 - 1992
شین کاف نظام
born.1947
سوپنل تیواری
born.1984
تری پراری
born.1986
کلدیپ کمار
born.1987
ترکش پردیپ
سریندر پرکاش
1930 - 2002
مصنف
جسے دیکھتے ہی خماری لگےاسے عمر ساری ہماری لگے
محبت کی جس کو خماری لگےبیاہی بھی اس کو کنواری لگے
میتؔ خوابوں کی خماری سے نکلنے کے باداس سے اک بار تو پوچھو کہ بتاتا کیا ہے
لاکھ انکار مے کشی سے کروکہیں چھپتی بھی ہے خماری آنکھ
سیکڑوں شیشۂ دل بادہ کشوں کے توڑےمحتسب سے ہیں زیادہ وہ خماری آنکھیں
مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے
خوداری بہترین انسانی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے وجود کی اہمیت کو پہچانتا ہے اوراپنےآس پاس پھیلی ہوئی دنیا سے اپنے رشتوں کو ازسرنوترتیب دیتا ہے ۔ ایک تخلیق کارسے زیادہ جس کا سارا کا سارا سروکار اپنے وجودی معاملات سے ہوتا ہے خودرای اوراس کی مختلف صورتوں سے کون واقف ہوگا۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ خودداری کی پیدا کردہ داخلی قوت کے کئی رنگوں سے گزریں گے۔
हमारी ہَماری
۱۔ اپنی ، ذاتی ، نج کی ، ہم سب کی ۔
ہندی
ख़ुदाई خُدائی
۱. خدا (رک) سے منسوب تا متعلق.
فارسی
खुदाई کُھدائی
کُھدنے کا عمل، کُھودنے کا فعل
سنسکرت
ख़ुमारी خُماری
۲. سرور ، نشہ ، مستہ ، بد مستی ، نشے کے اثر سے آنکھوں کی خوابناک کیفیت .
عربی
تنہا چاند
مجموعہ
ہند آریائی اور ہندی
سونیتی کمار چٹرجی
تاریخ
آتش تر
غزل
ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعیت
محمد منظور نعمانی
تاریخ اسلام
رقص مے
دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی
ونود کمار شکل
ناول
پنچ تنتر کی کہانیاں
شیو کمار
ادب اطفال
دلیپ کمار
سعید احمد
تفریحات
نظامی بنسری
راجکمار ہردیو
چشتیہ
شہید بھگت سنگھ
کے۔کے۔کھلر
حدیث دیگراں
افسانہ
ترجمہ
سرقہ اور توارد
اردو ناول کا نگارخانہ
ناول تنقید
خماری نین تھے کھلے پھول جیو میںنہیں مو کو دونا و بالا کا حاجت
یاد ہے پہلی محبت کی خماری اب تکوہ درختوں پہ ترا نام مسرتؔ لکھنا
ہماری آنکھ میں دو پل کی جو خماری تھیادھاری تھی وہ تمہیں دیکھ کر اتاری تھی
میں مٹ چکی ہوں اور نمایاں ہوا ہے تومرشد خمار میں یوں خماری گئی ہوں میں
میکدے میں ٹوٹے جاتے ہیں بہم لڑ لڑ کے جاممفسدہ پرداز ہے چشم خماری آپ کی
آج تک چھائیہم پر وہ خماری ہے
رت جگے میں بھی اک خماری ہےخواب ہلکا ہے نیند بھاری ہے
تجھ کو ہر صبح کے آغاز پہ سوچا میں نےمجھ کو کرتی ہی رہی میری خماری پاگل
نہ جانوں تو ساقی تھا کس بزم کانین تیری مجھ کوں خماری لگے
شاید کہ تیری یاد کے مہکے ہیں پھول کچھانجمؔ جو آج رقص خماری ہے جسم میں
نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگےنہ آئے نیند تو آنکھوں کو کیا خماری لگے
رات جاگا ہے پی شراب کہیںتیری آنکھیں نپٹ خماری ہیں
محباں کے من لبدے ہیں تج سوں دائمگھلی ان نین میں برہ کی خماری
آج وعدہ وہ پھر نبھائے گاوادی و گل پہ کیا خماری ہے
بس گیا تھا خیال و خواب میں وہوہ خماری بھی کیا خماری تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books