Swapnil Tiwari's Photo'

سوپنل تیواری

1984 | ممبئی, ہندوستان

تصویری شاعری 1

دھیرے دھیرے ڈھلتے سورج کا سفر میرا بھی ہے شام بتلاتی ہے مجھ کو ایک گھر میرا بھی ہے جس ندی کا تو کنارہ ہے اسی کا میں بھی ہوں تیرے حصے میں جو ہے وہ ہی بھنور میرا بھی ہے ایک پگڈنڈی چلی جنگل میں بس یہ سوچ کر دشت کے اس پار شاید ایک گھر میرا بھی ہے پھوٹتے ہی ایک انکر نے درختوں سے کہا آسماں اک چاہئے مجھ کو کہ سر میرا بھی ہے آج بیداری مجھے شب بھر یہ سمجھاتی رہی اک ذرا سا حق تمہارے خوابوں پر میرا بھی ہے میرے اشکوں میں چھپی تھی سواتی کی اک بوند بھی اس سمندر میں کہیں پر اک گہر میرا بھی ہے شاخ پر شب کی لگے اس چاند میں ہے دھوپ جو وہ مری آنکھوں کی ہے سو وہ ثمر میرا بھی ہے تو جہاں پر خاک اڑانے جا رہا ہے اے جنوں ہاں انہیں ویرانیوں میں اک کھنڈر میرا بھی ہے جان جاتے ہیں پتا آتشؔ دھوئیں سے سب مرا سوچتا رہتا ہوں کیا کوئی مفر میرا بھی ہے

 

ویڈیو 9

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
ایسی اچھی صورت نکلی پانی کی

سوپنل تیواری

دھوپ کے بھیتر چھپ کر نکلی

سوپنل تیواری

سماعتوں میں بہت دور کی صدا لے کر

سوپنل تیواری

ملی ہے راحت ہمیں سفر سے

سوپنل تیواری

ملی ہے راحت ہمیں سفر سے

سوپنل تیواری

منہ اندھیرے تیری یادوں سے نکلنا ہے مجھے

سوپنل تیواری

ندی کی لے پہ خود کو گا رہا ہوں

سوپنل تیواری

کرن اک معجزہ سا کر گئی ہے

سوپنل تیواری

کسی نے بھی نہ میری ٹھیک ترجمانی کی

سوپنل تیواری

"ممبئی" کے مزید شعرا

  • شکیل بدایونی شکیل بدایونی
  • ساحر لدھیانوی ساحر لدھیانوی
  • گلزار گلزار
  • عبد الاحد ساز عبد الاحد ساز
  • اختر الایمان اختر الایمان
  • قیصر الجعفری قیصر الجعفری
  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی
  • جاں نثاراختر جاں نثاراختر
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری
  • ذاکر خان ذاکر ذاکر خان ذاکر