aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHvaab-e-marg-e-muhmal"
ای۔ اے۔ موگل
مصنف
ادارۂ علوم آل محمد، لاہور
ناشر
مطبع خیر خواہ دکن، حیدر آباد
خیر خواہ اسلام پریس، آگرہ
مطبع اخبار خیرخواہ ہند
ابن انشا
1927 - 1978
شاعر
امام دین مغل باغبان
محمد ابن اسحق شوکت بخاری
مرزا محمد ابن عبدالوہاب قازوینی
ابن خلکان
1211 - 1282
آئی۔ ڈبلیو۔ موما
ادارۂ اسلامیات مٹیا محل، دہلی
رنگ محل پبلی کیشنز, مظفر نگر، یو۔ پی۔
عبادت کا طریقہ حرکتیں ہیں تشنہ و مبہمکبھی روح صنم بیدار خواب مرگ مہمل سے
تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
دل بیتاب مرگ ناگہاں باقی نہ رہ جائےمحبت کا یہ نازک امتحاں باقی نہ رہ جائے
حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہوسچ تو یہ ہے آپ سا بھی بے خبر کوئی نہ ہو
پس مرگ تمنا کون دیکھےمرے نقش کف پا کون دیکھے
مغلوں کی تاریخ پر دس بہترین اردو کتابیں یہاں پڑھیں۔ اس صفحہ پر مغل تاریخ پر مبنی دس سب سے معیاری کتابیں دستیاب ہیں، جن کو ریختہ نے اردو ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
خواب صرف وہی نہیں ہے جس سے ہم نیند کی حالت میں گزرتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی ہم زندگی کا بڑا حصہ رنگ برنگے خوابوں میں گزارتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیروں کے پیچھے سر گرداں رہتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب ایسے ہی شعروں پر مشتمل ہے جو خواب اور تعبیر کی کشمکش میں پھنسے انسان کی روداد سناتے ہیں ۔ یہ شاعری پڑھئے ۔ اس میں آپ کو اپنے خوابوں کے نقوش بھی جھلملاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
تاج محل کو دنیا بھر میں محبت کی ایک زندہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ساری دنیا کے عاشقوں کے دل اس عمارت سے محبت کے اسی رشتے سے جڑے ہیں ۔ آپ کے دل میں بھی اس عمارت کو دیکھ کر یا اس کے بارے میں سن کر ایک گرمی سی پیدا ہوجاتی ہو گی۔ لیکن شاعری میں تاج محل اور محبت کی یہ کہانی ایک اور ہی رنگ میں نظر آتی ہے ۔ اس کہانی کا یہ نیا رنگ آپ کو حیران کر دے گا ۔
مرثیۂ مرگ ضمیر
فضا اعظمی
پس مرگ
سلطان نقشبندی
شاعری
عروس مرگ
نامعلوم مصنف
ناول
مرگ ناوقت
احسان اصغر
مجموعہ
مرگ یزید
مائل ملیح آبادی
تاریخی
رحلت قادیانی بمرگ ناگہانی اور فیصلہ ربانی برمرگ قادیانی
محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
خالد پرویز
تاریخ اسلام
مرگ انبوہ
مشرف عالم ذوقی
ارشاد رضیہ
رشید احمد
خواب ہستی
پسِ مرگ زندہ
نور عالم خلیل امینی
مرگ انبوه
قربت مرگ میں محبت
مستنصر حسین تارڑ
خیابان خواب و خیال
یعقوب مرزا
خواب گل پریشاں ہے
ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئےصحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے
جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤںزندگی یہ ہے کہ ہر سانس میں مرتا جاؤں
قائمؔ حیات و مرگ بز و گاؤ میں ہیں نفعاس مردمی کے شور پہ کس کام کا ہوں میں
ساعت مرگ مسلسل ہر نفس بھاری ہوئیپھر فضائے جاں پہ صدیوں کی تھکن طاری ہوئی
ماتم مرگ تمنا نہ سمجھ اے ناداںزندگی بول رہی ہے مرے افسانے میں
دکھ کی بنیاد بنا سلسلۂ مرگ و حیاتکاش انساں کبھی ہستی کا نہ ہوتا طالب
آؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!
بول کس موڑ پہ ہوں کشمکش مرگ و حیاتایسے عالم میں کہاں چھوڑ دیا ہے مجھ کو
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books