aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aable"
ابن انشا
1926 - 1978
شاعر
آل احمد سرور
1911 - 2002
مصنف
آل رضا رضا
1896 - 1978
فضا ابن فیضی
1923 - 2009
ابن صفی
1928 - 1980
آلِ عمر
born.1995
ابن مفتی
اشہد بلال ابن چمن
born.1980
ابن کنول
1957 - 2023
محی الدین ابن عربی
1161 - 1240
شکیل ابن شرف
ابن منیب
born.1979
ابن حنیف
امام ابن تیمیہ
ابن نشاطی
died.1655
بولتے کیوں نہیں مرے حق میںآبلے پڑ گئے زبان میں کیا
رات بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچاکون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغمیں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں
تو ہی برہنہ پا نہیں اس جلتی ریت پرتلووں میں جو ہوا کے ہیں وہ آبلے بھی دیکھ
اردو ادب کا ایک انوکھا شاعر، ابن انشا۔ ہم نے ان کی کچھ نظموں کا انتخاب کیا ہے۔ پڑھئے اور لطف اٹھایئے ۔
یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔
اگر آپ ہجر کی حالت میں ہیں تو یہ شاعری آپ کےلئے خاص ہے ۔ اس شاعری کو پڑھتے ہوئے ہجر کی پیڑا ایک مزے دار تجربے میں بدلنے لگے گی ۔ یہ شاعری پڑھئے ، ہجر اور ہجر ذدہ دلوں کا تماشا دیکھئے ۔
आबलेآبْلے
فارسی
چھالے، پھپھولے
ableable
اَہل
आबलाآبْلَہ
چیچک کا دانہ، چیچک کا بڑا پھلکا، پھنسی
आलेآلے
عربی
(قدیم) اعلیٰ کی جمع اورمغیرہ حالت
آبلے
احمد ندیم قاسمی
افسانہ
رہبر تابانی
مجموعہ
مدہوش بلگرامی
آب گم
مشتاق احمد یوسفی
نثر
اردو افسانہ
افسانہ تنقید
آب رواں
ظفر اقبال
غزل
آوارہ گرد
ابن آدم
جاسوسی
مقدمہ تاریخ ابن خلدون
عبد الرحمٰن ابن خلدون
تہذیبی وثقافتی تاریخ
کامل ابن اثیر
اسلامیات
تنقید کیا ہے
تنقید
سفر نامہ ابن بطوطہ
ابن بطوطہ
سفر نامہ
ترجمہ و شرح کلیات قانون ابن سینا
ابو علی سینا
کلیات
آب حیات
محمد حسین آزاد
تاریخ
پھول بن
آبلے اپنے ہی انگاروں کے تازہ ہیں ابھیلوگ کیوں آگ ہتھیلی پہ پرائی لیتے
گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروومنزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر
خود ہیں اپنے سفر کی دشواریاپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہےدردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
یہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پانی کے آبلےنالہ سا ایک سوئے بیابان بہہ گیا
پاؤں میں زنجیر کانٹے آبلےاور پھر حکم سفر ہے کیا کروں
پڑ جائیں مرے جسم پہ لاکھ آبلہ اکبرؔپڑھ کر جو کوئی پھونک دے اپریل مئی جون
پاؤں میں آبلے تھے تھکن عمر بھر کی تھیرکنا تھا بیٹھنا تھا پہ چلنا پڑا مجھے
عزلت گزین بزم ہیں واماندگان دیدمینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
میرے دل پر تو گریں آبلے بن کر بوندیںکون سی یاد کے صحرا تھے جو برسات میں تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books