aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aaina e shahbaz eb"
شاہراہ عثمانی، حیدرآباد
ناشر
دفتر شاہراہ علم، نندوربار
آئینہ ادب، لکھنؤ
آقاۓ رازی
مصنف
دفتر شاہکار، ورانسی
مکتبہ شاہکار، الہ آباد
آئین مال پریس، حیدرآباد
دفتر شاہکار، لکھنؤ
آئینۂ ادب، لاہور
تنظیم ابنائے اشرفیہ، اعظم گڑھ
آئینۂ ادب، دلی
شعبۂ تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند، سہارنپور
مطبع آئینۂ سکندر
آئینۂ ادب، دہلی
ابنائے مولوی غلام محمد رسول سورتی
اے میرے آئینہ رو اب کہیں دکھائی دےاک عمر بیت گئی خال و خد سنوارے ہوئے
سخن کے آئینہ خانے کو خیر ہو شہبازؔزمانہ سنگ بکف ہے ادھر کو آ رہا ہے
اے اناؔ کس پر بھلا کیجے یقیںبک گئے غم خوار اب آئے گا کون
جا تو اپنی راہ لے اب اے دل عشرت طلبپہلوئے شہبازؔ میں بیٹھے ہوئے عرصہ ہوا
کہاں گئے معجزوں کے منکر اب آئیں شہبازؔ آ کے دیکھیںہمارے کھدر نصیب ہاتھوں میں ہے کلائی شنیل جیسی
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
آئینہ شہباز
سید علی سید امروہوی
مقالات/مضامین
گوہرِ شاہوار رباعیات
محمد سلمان
رباعی
آئینہ سکندر
شیخ غلام محی الدین
تذکرہ
شہکار عروض و بلاغت
انور مینائی
علم عروض / عروض
شاهكار نظم
محمد ابراہیم
شہباز قلم
مختار تلہری
میخانہ شہباز
اسلام احمد شاہی
ذکر شہباز
محمد اسمٰعیل فلاحی
شاہراہ آزادی
وحید احمد
شاہراہ اعتدال
امام محمد غزالی
شاہراہ زندگی
رام سروپ کوشل
دیگر
شاہراہ تندرستی
مہاتما گاندھی
مکتوبات شہباز
سید صابر حسن
خطوط
اعلائے حق
محمود نظامی
شہداب تغزل
اقبال شیدائی
مجموعہ
آئنہ صاف دل اتنا بھی نہیں اب کہ تمہیںاصل چہرے کے خط و خال دکھا ہی دے گا
تو اس کی زد میں جو آیا تو ڈوب جائے گابہ قدر آب ہے ہر آئنہ بہت گہرا
پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہہے رزم گاہ حسن کا یہ چار آئنہ
یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیاتہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئے
شاہکار حسن فطرت سازشوں میں بٹ گیاآئینہ ٹوٹا تو چہرہ آئنوں میں بٹ گیا
جرس شوق اگر ساتھ رہیہر نفس شہپر عنقا ہوگا
دیکھ اخترؔ تو ذرا آئینۂ خوف خدااب تو تیری روح کا سنگار ہونا چاہیئے
شکست آرزو کو عشق کا انجام کیوں سمجھوںمقابل ہے مرے آئینۂ لیل و نہار اب تک
اب تلک مجھ کوں کسی شخص کے چہرہ کا خیالصورت آئنۂ جاں نہ ہوا تھا سو ہوا
میری آنکھوں سے گریزاں ہیں وہ جلوے اب تکعکس جن کے مرے آئینۂ جاں تک پہنچے
آئنۂ خلا میں اب میں بھی بہت سنور چکاتو بھی بہت سنور چکی صبح بخیر زندگی
نظر کا نشہ بدن کا خمار ٹوٹ گیاکہ اب وہ آئینہ اعتبار ٹوٹ گیا
اے گزرے ہوئے لمحو کوئی نقش ابھاروآئینۂ تخییل پہ اب گرد جمی ہے
کیوں ترا چہرہ نظر آتا ہے ٹکڑے ٹکڑےاب شکستہ ترا آئینۂ کردار ہے کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books