aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aapse"
ہری نارائن آپٹے
مصنف
اپنے مرادآباد پرنٹنگ پریس، مرآدآباد
ناشر
اپنے شاہجہانی پریس، دہلی
اپنے حافظ آبادی پریس، لاہور
عکس نو پبلیکیشنز، لاہور
آپ نے گھر کا کوئی بہترین کام کردیا تو اس کی داد آپ کی بیوی سے بھی نہیں ملے گی جو آپ سے بہتر کام کی توقع نہیں رکھتی تھی۔...
اگر آپ اپنی حماقت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دانشمندوں کی محفل میں جاکر بیٹھ جائیے جو آپ سے کم احمقانہ باتیں نہیں کرتے۔...
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہتخود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
اردو کے کئی ادیبوں اور شاعروں نے مرزا غالب کے اشعار سے متاثر ہو کر اپنی کتابوں کے نام رکھے ہیں۔ ان کتابوں کے موضوعات مختلف ہیں، لیکن عنوانات غالب کے اشعار کی خوبصورتی اور مقبولیت سے متاثر ہو کر رکھے گئے ہیں۔ ایسی کتابوں کا ایک دل چسپ انتخاب ریختہ ای لائبریری میں دستیاب ہے، جہاں آپ آسانی سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔
اکبر الہ آبادی کے 20 بہترین اشعار
ہندوستانی اساطیری روایات کے حوالے سے ہچکی کا سبب یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی یاد کررہا ہے ۔ اس قسم کے تصورات سچ اور جھوٹ سے ماورا ہوتے ہیں ۔ شاعروں نے بھی ہچکی کو اس کے اسی تناظر میں برتا ہے ۔ کچھ اشعار کا انتخاب ہم آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔
apseapse
جھروکہ
अपसेاَپْسے
اپنے آپ کو .
आसेآسے
امید گاہ۔
आस्तेآسْتے
آہستہ (رک) كا تلفظ (اكثر تكرار كے ساتھ مستعمل)
یا رسول اللہ آپ سے محبت اور آپ پر درود کیوں
اسلامیات
راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری
وہاب اشرفی
فکشن تنقید
عکس اسرار خودی
علامہ اقبال
ترجمہ
انسانیت موت کے دروازے پر
ابوالکلام آزاد
عکس لالۂ طور
شاعری
کالا جادو اور عکس جن
محمد ندیم
کاربن کی کہانی اور اس سے بننے والی چیزیں
مصطفی حسن رضوی
سائنس
احوال عرس مقدس بابا فرید گنج شکر
سید امام علی شاہ
چشتیہ
جمہوریت اپنے آئینے میں
سید محمد میاں
ایسے تھے گاندھی جی
یو۔ آر۔ راؤ
سوانح حیات
اپنی محفل اپنے دوست
جگن ناتھ آزاد
خاکے/ قلمی چہرے
اپنے دکھ مجھے دے دو
راجندر سنگھ بیدی
افسانوی ادب
اپنے اور پرائے
کے، ایل، گابا
خود نوشت
بیسویں صدی کے بعض لکھنوی ادیب اپنے تہذیبی پس منظر میں
مرزا جعفر حسین
شاعری تنقید
مولٰینا محمد علی کے یورپ کے سفر
مولانا محمد علی جوہر
سفر نامہ
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیںبارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سےایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔمجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرضتم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو
تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیےحالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکناسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوںجو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books