ADVERTISEMENT

یاد رفتگاں پر اشعار

رفتگاں کی یاد سے کسے

چھٹکارا مل سکتا ہے ۔ گزرے ہوئے لوگوں کی یادیں برابر پلٹتی رہتی ہیں اور انسان بے چینی کے شدید لمحات سے گزرتا ہے ۔ تخلیقی ذہن کی حساسیت نے اس موضوع کو اور بھی زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے اور ایسے ایسے باریک احساسات لفظوں میں قید ہوگئے ہیں جن سے ہم سب گزرتے تو ہیں لیکن ان پر رک کر سوچ نہیں سکتے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اپنے اپنے رفتگاں کی نئے سرے سے بازیافت کیجئے ۔

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

ناصر کاظمی

وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں

اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

ابن انشا

اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی

یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں

فراق گورکھپوری

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

حیدر علی آتش
ADVERTISEMENT

جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ

وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں

ناصر کاظمی

ہائے وہ لوگ جو دیکھے بھی نہیں

یاد آئیں تو رلا دیتے ہیں

محمد علوی

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے

اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

احمد مشتاق

بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگی

دل میں امید تو کافی ہے یقیں کچھ کم ہے

شہریار
ADVERTISEMENT

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

سکندر علی وجد

اداس شام کی یادوں بھری سلگتی ہوا

ہمیں پھر آج پرانے دیار لے آئی

راجیندر منچندا بانی

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

غالب کا یہ مشہور شعر معنوی اور فنی دونوں سطحوں پر کمال کا درجہ رکھتا ہے۔ شعر کی مناسبتیں بڑی دلچسپ ہیں۔ لالہ و گل کی مناسبت سے صورتیں اور ان دونوں کی رعایت سے خاک، نمایاں کی مناسبت سے پنہاں اور ان دونوں کی رعایت سے ’خاک‘ ہر پہلو سے غور طلب ہے۔ انسانی صورتوں کو لالہ و گل سے مشابہ کرنا اور پھر ان کی نمود کے لئے خاک کو ذریعہ بنانا غالب کا ہی کمال ہے۔ اور اس سے بڑھ کر کمال یہ ہے کہ لالہ و گل کو انسانی صورتوں کا مرہونِ منت بتایا ہے۔ اور وہ بھی تب جب وہ خاک میں مل جاتی ہیں۔

’’سب کہاں کچھ‘‘ کہہ کر گویا یہ بات باور کرائی ہے کہ یہ جو لالہ و گل ہیں یہ ان انسانی صورتوں میں سے کچھ ہی میں نمودار ہوئے ہیں جو مرنے کے بعد قبر میں سماتی ہیں۔ ‘‘ ’’خاک میں کیا صورتیں ہوں گی‘‘ مطلب کیسے کیسے حسین و جمیل لوگ خاک میں مل گئے۔ شعر کا مفہوم یہ ہے کہ زمین میں مرنے کے بعد بڑے خوبصورت لوگ مل جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہی لالہ و گل کی صورتوں میں نمایاں ہوجاتی ہیں۔ گویا لالہ و گل کی صوررت میں وہ پری جمال لوگ دوسرا جنم لیتے ہیں یا اگر ان خوبصورت لوگوں میں سے سب کے سب لالہ وگل کی صورت میں نمایاں ہوں گیں تو ساری زمین بھر جائے گی۔

مرزا غالب

وہ لوگ اپنے آپ میں کتنے عظیم تھے

جو اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہ کر سکے

خلیل تنویر
ADVERTISEMENT

کتنے اچھے لوگ تھے کیا رونقیں تھیں ان کے ساتھ

جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا

فاطمہ حسن

جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی

کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں

مخمور دہلوی

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے

اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

احمد مشتاق

زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی

ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے

ناصر کاظمی
ADVERTISEMENT

وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماری

پھرتی ہیں وہ شکلیں جنہیں دیکھا نہیں ہوتا

احمد مشتاق

وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیں

اب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیں

سلیم کوثر

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

محمد رفیع سودا

راستو کیا ہوئے وہ لوگ کہ آتے جاتے

میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیے

اظہر عنایتی
ADVERTISEMENT

جو مری شبوں کے چراغ تھے جو مری امید کے باغ تھے

وہی لوگ ہیں مری آرزو وہی صورتیں مجھے چاہئیں

اعتبار ساجد

کیسے قصے تھے کہ چھڑ جائیں تو اڑ جاتی تھی نیند

کیا خبر تھی وہ بھی حرف مختصر ہو جائیں گے

سلیم احمد

محبتیں بھی اسی آدمی کا حصہ تھیں

مگر یہ بات پرانے زمانے والی ہے

اسعد بدایونی

جن پہ نازاں تھے یہ زمین و فلک

اب کہاں ہیں وہ صورتیں باقی

ابن مفتی
ADVERTISEMENT

جس کا ساکن ہے مری ذات میں اب تک زندہ

پھول اس قبر پہ جا کر میں چڑھاؤں کیسے

عدیل زیدی