aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "alvidaa"
خلیل الہدی شارق نیازی
1917 - 1978
شاعر
ڈاکٹر عبیدہ بیگم
مصنف
الہدی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، حاجی پور، (ویشالی)
ناشر
سید شاہ عین الہدیٰ
مولانا صدر الوریٰ قادری
مدیر
اقتدا حسن
عزیر احمد نورالہدیٰ
سید فیضان الہدی قادری
قمر الہدیٖ
ابو عبیدہ خاں
عبیدہ سمیع الزماں
ابو عبیدہ ابادلی
نورالہدیٰ
ابو عبیدہ نظام الدین
شمس الہدیٰ ندوی
وہ الوداع کا منظر وہ بھیگتی پلکیںپس غبار بھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے
کلیجہ رہ گیا اس وقت پھٹ کرکہا جب الوداع اس نے پلٹ کر
وقت رخصت الوداع کا لفظ کہنے کے لیےوہ ترے سوکھے لبوں کا تھرتھرانا یاد ہے
حسین یادوں کے چاند کو الوداع کہہ کرمیں اپنے گھر کے اندھیرے کمروں میں لوٹ آیا
گھر میں رہا تھا کون کہ رخصت کرے ہمیںچوکھٹ کو الوداع کہا اور چل پڑے
التجا کا تناظر محبوب سے وصال، اس سے ملاقات یا اس کی ایک جھلک پا لینے کی خواہش سے جڑا ہے ۔ شاعری میں موجود عاشق ہرلمحہ یہی التجا اور فریاد کرتا رہتا ہے لیکن وہ بتِ کافر سنے ہی کیوں ۔ شاعری کا یہ حصہ ایک عاشق کی آرزومندی کی لطیف ترین کیفیتوں کا دلچسپ اظہار ہے ۔
अलविदा' اَلْوِداع
رخصت کے وقت بولے جانے والا لفظ جیسے: اب رخصت ہوتا ہوں، اب تمھیں رخصت کیا، خدا حافظ، اللہ نگہبان، الفراق، وداع
عربی
अल्विया اَلْوِیَہ
چھوٹے جھنڈے، علم، پرچم
आलाईदा آلائیدہ
لتھڑا ہوا، سنا ہوا، لت پت
فارسی
अलविदा'ई اَلْوِداعی
منسوب بہ الوداع، جو کسی کو رخصت کرنے کی تقریب میں ہو، اکثر رخصتی نظم یا جلسہ وغیرہ
صدی کو الوداع کہتے ہوئے
مشرف عالم ذوقی
افسانہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے اور سفر حجۃ الوداع
رہبر فاروقی
اسلامیات
خطبہ حجۃ الوداع
حکیم محمد سعید دہلوی
خطبات
خطبہ حجۃالوداع
محمد میاں صدیقی
فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات
تحقیق
اردو ادب کی تاریخ
تبسم کاشمیری
تاریخ
اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم
حنیف کیفی
نظم تنقید
اردو مرثیے کا ارتقاء
مسیح الزماں
مرثیہ تنقید
مخزن المفردات
حکیم محمد کبیرالدین
طب یونانی
خزائن الادویہ
نجم الغنی خان نجمی رامپوری
طب
فکشن کی تنقید کا المیہ
وارث علوی
فکشن تنقید
کلیات علم الادویہ
محمد آفتاب احمد
اردو ادب کی تحریکیں
انور سدید
ادویہ کی دو تقسمیں
طب یونانی میں گھریلو ادویہ اور عام معالجہ کی کتاب
حکیم محمد عبدالرزاق
ایک دن کہنا ہی تھا اک دوسرے کو الوداعآخرش سالمؔ جدا اک بار تو ہونا ہی تھا
لگا جب یوں کہ اکتانے لگا ہے دل اجالوں سےاسے محفل سے اس کی الوداع کہہ کر نکل آئے
لڑکپن کی رفیق اے ہم نوائے نغمۂ طفلیہماری گیارہ سالہ زندگی کی دل نشیں وادی
آب دیدہ ہو کے وہ آپس میں کہنا الوداعاس کی کم میری سوا آواز بھرائی ہوئی
الوداعکیسے ماہ و سال گزرے
الوداع کہہ چکی ہےتم مجھے مسل سکتے ہو
الوداع اے بزم انجم ہجر کی شب الفراقتا بہ دور زندگانی انتظار یار تھا
دم کوئی دم کا ہے مہماں الوداعدرد و غم میرے دل و جاں الوداع
بڑے غرور سے نکلے تھے الوداع کہہ کربس ایک بار پکارا گلی میں لوٹ آئے
کیسے کہتا میں الوداع اس کواس کے دل میں مرا ٹھکانہ تھا
عجیب شخص تھا خود الوداع کہا لیکنہر ایک شام مرا انتظار کرتا تھا
کیوں اشارہ ہے افق پر آج کس کی دید ہےالوداع ماہ رمضاں وہ ہلال عید ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books