aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "andaaze"
عندلیب شادانی
1904 - 1969
شاعر
انداز امروہوی
born.1977
محمد عبدالوہاب عندلیب
مصنف
عمران احمد عندلیب
روپانکن، اندور
ناشر
ادارۂ ادب جدید، حیدرآباد
مکتبۂ ابراہیمیہ امداد باہمی، حیدرآباد
ادارہ ادب اسلامی ہند، مہارشٹر
لالہ گوبند سنگھ عندلیب دہلوی
ادارۂ ادب لطیف
مدیر
عندلیب صدیقی
عرفان علی بہادر اندور
عندلیب میرٹھی
انوارِ خورشید
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے
پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیںمیرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں
دل ہی عشق اور محبت کا مرکز ہوتا ہے ۔ دل لگنا ، دل جدا ہونا ، دل ٹوٹنا ، دل جلا ہونا یہ اور اس طرح کی دوسری لفظیات دل کی اسی مرکزیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ دل لگی کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں ان میں آپ دل لگی کی مزے دار ، کبھی ہنسا دینے والی اور کبھی رلا دینے والی صورتوں سے گزریں گے ۔ یہ شاعری عاشقوں کیلئے ایک سبق بھی ہے جسے پڑھ کر وہ خود کو دل لگی کے سفر کیلئے تیار بھی کرسکتے ہیں ۔
حالات اچھے بھی ہو سکتے ہیں اور خراب بھی لیکن حالات کا لفظ عمومی طور پر زندگی کی منفی صورتوں کا ہی غماز ہوتا ہے ۔ ہم نے اس لفظ کے تحت جن شعروں کو جمع کیا ہے وہ سب زندگی کی اسی منفی قدر کا اظہاریہ ہیں۔ ان میں گزرے ہوئے اچھے وقت کو یاد کرکے دکھنی ہونے کی کیفیت بھی ہے اور حال کی بدصورتی کا نوحہ بھی۔ یہ اشعار احساس کی جس شدت کے ساتھ کہے گئے ہیں وہ خاصے کی چیز ہے ، آپ انہیں پڑھئے اور ان کیفیتوں کو محسوس کیجئے۔
अंदाज़ اَنْداز
طور، طریقہ، طرز، ڈھنگ
فارسی
अंदाज़ा اَنْدازَہ
अंदाज़ी اَنْدازی
اندازے کے مطابق، اندازہ لگایا ہوا (اپنے موصوف کے ساتھ مستعمل)
अंदके اَنْدَکے
اندک، تھوڑا
انداز گفتگو کیا ہے
شمس الرحمن فاروقی
شاعری تنقید
انداز بیاں اور
بی کے ورما شیدی
نظم
اندازے
فراق گورکھپوری
غزل تنقید
عاصم پیرزادہ
مزاحیہ
ہاشم عظیم آبادی
شاعری
راجہ مہدی علی خاں
اسلوب احمد انصاری
تنقید
انداز نظر
فتح محمد ملک
پس انداز موسم
احمد فراز
مجموعہ
منیب مظفر پوری
انداز بیاں
انداز بیاں اور عرف گلدستہ
ہریندر سریواستو
صفیہ اختر
فکشن تنقید
شمارہ نمبر-001
حقانی القاسمی
انداز غالب
نریش کمار شاد
انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
میں نے اندازے لگائے کہ سبب کیا ہوگاپر مرے تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے
اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہےاے چارہ گرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے
دیکھو تو دل فریبی انداز نقش پاموج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی
میرے قاتل ترا انداز جفا کیا ہوگا!
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہےشاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
لوح دل کو غم الفت کو قلم کہتے ہیںکن ہے انداز رقم حسن کے افسانے کا
سر سے پا تک سپردگی کی اداایک انداز ترکمانی بھی
اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئیسیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دےخامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلاکہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا
سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہےورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
میں آیا ہوںمیں اندازے سے سمجھا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books