aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "asaa"
بسمل سعیدی
1901 - 1976
شاعر
ادا جعفری
1924 - 2015
حفیظ جالندھری
1900 - 1982
اسعد بدایونی
1958 - 2003
احمد رضا خاں بریلوی
1856 - 1921
مصنف
سید محمد میر اثر
1735 - 1795
والی آسی
1939 - 2002
آسی غازی پوری
1834 - 1917
اثر لکھنوی
1885 - 1967
آسی الدنی
1893 - 1946
اسد بھوپالی
1920 - 1990
عائشہ ایوب
born.1983
اسریٰ رضوی
born.1993
عیش دہلوی
1779 - 1874
امداد امام اثر
1849 - 1933
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیںجو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہوجہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیںیعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
ہاں ہاں تری صورت حسیں لیکن تو ایسا بھی نہیںاک شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا ترا
اردو کے کئی ادیبوں اور شاعروں نے مرزا غالب کے اشعار سے متاثر ہو کر اپنی کتابوں کے نام رکھے ہیں۔ ان کتابوں کے موضوعات مختلف ہیں، لیکن عنوانات غالب کے اشعار کی خوبصورتی اور مقبولیت سے متاثر ہو کر رکھے گئے ہیں۔ ایسی کتابوں کا ایک دل چسپ انتخاب ریختہ ای لائبریری میں دستیاب ہے، جہاں آپ آسانی سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
ترقی پسند دور میں جو شاعری ہوئی وہ اس وقت کے سماج کو صحیح راہ دکھانے کے لئے تھی - کئی شاعروں نے اس وقت ایسے کلام کہے جس میں ذاتی دکھ درد کے ساتھ ساتھ سماج کی اصلاح بھی تھی -
ऐसाاَیسا
سنسکرت
(کسی چیز کی) مثل یا مانند، سا
आसाآسا
فارسی
امید، آرزو، خواہش
आसाآسَہ
عصا (رک) كی تخریب۔
आ'साاَعْصا
عصا، لاٹھی
محبت ایسا دریا ہے
امجد اسلام امجد
مجموعہ
پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا
کلیم عاجز
سات آسمان اور ان کی بلندیاں
محمد عیسیٰ اعظمی
سائنس
حضرت عیسیٰ اور صلیب
مولوی چراغ علی
سوانح حیات
انفاس عیسی
محمد عیسی تھانوی
اشک عصا نے نہر نکالی
عین تابش
غزل
مجموعہ اعجاز عیسوی
خواجہ محمد عیسیٰ
اسلام عیسائیت اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام
خالد محمود
جب ایسا ہو
سید ظفر ہاشمی
عصائے پیری
بشیر الدین احمد دہلوی
تانیثیت
مولانا اشرف علی تھانوی
اسلامیات
ترمذی شریف
ابو عیسی محمد بن عیسی
حضرت شاہ عسییٰ جنداللہ
شیخ فرید
انفاس عیسیٰ
مولانا محمد عیسی
وہ راحت جاں ہے مگر اس در بدری میںایسا ہے کہ اب دھیان ادھر بھی نہیں جاتا
ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھاس سے پہلے بھی ہو چکا ہے کہیں
باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقابکون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنابرکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے
دل کش ایسا کہاں ہے دشمن جاںمدعی ہے پہ مدعا ہے عشق
پورا دکھ اور آدھا چاندہجر کی شب اور ایسا چاند
گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میںبت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیںلیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books