aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "az.haan"
اظہر اقبال
born.1978
شاعر
اظہر فراغ
born.1980
اظہر عنایتی
born.1946
عامر اظہر
born.1989
اظہر نواز
born.1995
تسلیم فاضلی
1947 - 1982
آہ سنبھلی
مصنف
پریمودا الحان
born.1991
اے ڈی اظہر
1900 - 1974
اظہر ادیب
born.1949
منوج اظہر
اظہر عباس
ازلان شاہ
اظہار اثر
born.1929
اظہر نیر
born.1945
کوئی ذی عقل اور صاحب ہوش و فہم انسان خون بہانا پسند نہیں کرتا سوائے ان کے جو اپنے اذہان کی آغوش میں بھیانک جرائم و شدائد کی پرورش کرتے ہیں۔...
پتھر کے صنم بھی کبھی کچھ بول سکے ہیںاے بت شکن اذہان کے خاموش سوالو
احساس کی قندیل سے اذہان ہیں روشنلیکن یہ اجالا بھی جو کجلائے تو کیا ہو
ان گنت زاویے افکار کے لے آتے ہیںان کھلونوں سے وہ اذہان کو بہلاتے ہیں
دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلےان کے اذہان پہ افکار پہ جالے نکلے
شاعری میں اظہار اپنی بیشتر صورتوں میں عشق کا اظہار ہے ۔ اظہار اور اس کے متعلقات کو موضوع بنانے والی شاعری اس لئے زیادہ دلچسپ ہے کہ وہ اظہار سے پہلے کی کشمکش کو موضوع بناتی ہے ۔ یہ کشمکش کبھی اظہار میں تبدیل ہو جاتی ہے اور کبھی اور زیادہ گہری ہو کر عاشق کیلئے ایک نیا روگ بن جاتی ہے ۔ ان لمحوں کو ہم سب نے جیا ہے اس لئے یہ شاعری بھی ہم سب کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب حاضر ہے ۔
इज़हार اِظْہار
افشا، انکشاف، ظہور، ظاہر کرنا یا ہونا
عربی
अज़हान اَذْہان
سمجھ، عقل یا حافظے کی قوتیں
अज़हर اَزْہَر
بہت روشن، منور
अज़हर اَظْہَر
خوب ظاہر، نہایت صریح اور بہت زیادہ واضح
شمارہ نمبر-001
قاضی محمد ظہورالدین اکمل
Jan 1917تشحیذ الاذہان
اذہان فروزاں
اے پی جے عبد الکلام
آرٹیکل کلیکشن
تشحیل الاذہان
خورشید احمد
شمارہ نمبر-004
Apr 1918تشحیذ الاذہان
شمارہ نمبر-011،012
Dec 1916تشحیذ الاذہان
Apr 1919تشحیذ الاذہان
شمارہ نمبر-008
Aug 1919تشحیذ الاذہان
شمارہ نمبر-009
Sep 1921تشحیذ الاذہان
شمارہ نمبر-012
Dec 1921تشحیذ الاذہان
شمارہ نمبر-003
Mar 1919تشحیذ الاذہان
شمارہ نمبر-002
Feb 1919تشحیذ الاذہان
Jan 1920تشحیذ الاذہان
اذہان و اشخاص
دبیر احمد
تصفیہ الاذھان ان مکائد دافع البہتان
محمد حفیظ الرحمنٰن سہوارودی
اسلامیات
اذہان
ایم۔ کے۔ اثر
تذکرہ
پیچیدہ تجارتی اذہان کے ساتھزندہ رہنے کی دوڑ میں سرگرداں
جس کی مستی میں مقید ہیں سبھی کے اذہانشعر و نغمے اسی سرشاری کے دو گانے ہیں
ہجرت ہوئی اذہان پہ کچھ ایسے مسلطوہ گھر تھا جو اک باغ ارم بیچ رہے ہیں
اس دہر میں بلندیٔ اذہان کند سےمیں گرچہ جانتا تھا انہیں فال کی کتاب
ہماری چشم آہن پوش پیراہن شناسا ہےلباسوں کی محبت
آج عشبہؔ لوگ میری بات کیوں سنتے نہیںخود کو کوسوں یا کہ روؤں ایسے کج اذہان پر
وہ تو نور نظر دل نشیں ہے انیسؔجانتے ہو اسے اسم اذہان ہے
اس پہ دعویٰ بھی کہ یہ کار مسیحائی ہےسارے اذہان خرافات میں الجھے ہوئے ہیں
اپنی نظروں سے میں اتر جاؤںخود کو دوں زخم اور مکر جاؤں
نہیں مابعد کا چکر نہیں ہےفقط اذہان تازہ کر رہا ہے
یوں تو ہیں اس جہاں میں لاکھوں حسیںپر نہ پاؤ گے اس کے جیسا کہیں
مدعا عشق میرا ہے اذہانؔمیں نہیں مانتا برا ہے عشق
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میںتند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
اس سے تم نہیں ڈرتے!حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books