aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baa.is"
میرا بائی
مصنف
مرزا حامد بیگ
born.1949
بیگم اختر
1914 - 1974
فن کار
منی بائی حجاب
born.1860
شاعر
لی بائی
خدیجہ بائی
مرزا نہال احمد بیگ
مدیر
جے ٹال بائز ویلر
مراد بیگ چغتائی
ایف. ڈبلیو. بین
1863 - 1940
مجمع جہانی اہل بیت
ناشر
مرزا بیگ فرحین جہاں
مرزا عبدالنور بیگ
محمد عرفان بیگ نوری
مترجم
ادارۂ عرفان اہلبیت
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیںباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہاری ارجمند امی کو میں بھولا بہت دن میںمیں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میںوہی تو ہیں جنہوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایاوہ کس رگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکالہو اور تھوکنا اس کا ہے کاروبار بھی میرایہی ہے ساکھ بھی میری یہی معیار بھی میرامیں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیںنجانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیںمیں اک تاریخ ہوں اور میری جانے کتنی فصلیں ہیںمری کتنی ہی فرعیں ہیں مری کتنی ہی اصلیں ہیںحوادث ماجرا ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےشداید سانحہ ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےہمیشہ سے بپا اک جنگ ہے ہم اس میں قائم ہیںہماری جنگ خیر و شر کے بستر کی ہے زائیدہیہ چرخ جبر کے دوار ممکن کی ہے گرویدہلڑائی کے لیے میدان اور لشکر نہیں لازمسنان و گرز و شمشیر و تبر خنجر نہیں لازمبس اک احساس لازم ہے کہ ہم بعدین ہیں دنوںکہ نفی عین عین و سر بہ سر ضدین ہیں دونوںLuis Urbina نے میری عجب کچھ غم گساری کیبصد دل دانشی گزران اپنی مجھ پہ طاری کیبہت اس نے پلائی اور پینے ہی نہ دی مجھ کوپلک تک اس نے مرنے کے لیے جینے نہ دی مجھ کو''میں تیرے عشق میں رنجیدہ ہوں ہاں اب بھی کچھ کچھ ہوںمجھے تیری خیانت نے غضب مجروح کر ڈالامگر طیش شدیدانہ کے بعد آخر زمانے میںرضا کی جاودانہ جبر کی نوبت بھی آ پہنچی''
رات تاروں کا ٹوٹنا بھی مجازؔباعث اضطراب ہونا تھا
رات بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچاکون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد
ہندوستانی اساطیری روایات کے حوالے سے ہچکی کا سبب یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی یاد کررہا ہے ۔ اس قسم کے تصورات سچ اور جھوٹ سے ماورا ہوتے ہیں ۔ شاعروں نے بھی ہچکی کو اس کے اسی تناظر میں برتا ہے ۔ کچھ اشعار کا انتخاب ہم آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔
آگہی کلاسیکی شاعری میں کم کم استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آگہی سے وابستہ تصورات جدید دورکے پیدا کردہ ہیں ۔ جدید شاعری نے انسان اوراس کے باطن ، سماج اورکی مختلف شکلوں کے بارے میں جوایک داخلی اورتخلیقی فکرکو راہ دی ہے اس سے ایک نیا منظرنامہ سامنے آیا ہے ۔ انہیں بنیادوں پرجدید شعریات کا اپنا ایک انفراد بھی قائم ہوتا ہے ۔ آگہی کا رشتہ ایک سطح پر تصوف میں حاصل ہونے والی بے خودی سے بھی ملتا ہے ۔ اس انتخاب میں آگہی کے اس سفر کی چند منزلوں کے نشان ہیں ۔
ہوش مندی کے مقابلے میں بے خبری شاعری میں ایک اچھی اور مثبت قدر کے طور پر ابھرتی ہے ۔ بنیادی طور پر یہ بےخبری انسانی فطرت کی معصومیت کی علامت ہے جو حد سے بڑھی ہوئی چالاکی اور ہوش مندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے بچاتی ہے ۔ ہماری عام زندگی کے تصورات تخلیقی فن پاروں میں کس طرح ٹوٹ پھوٹ سے گزرتے ہیں اس کا اندازہ اس شعری انتخاب سے ہوگا ۔
बाबीبابی
فارسی, ہندی
Persian eclectic sect founded by Ali Muhammad Shirazi
बाँटبانٹ
سنسکرت
پتھر یا لوہے وغیرہ کے وہ ٹکڑے جن سے تولتے ہیں، بٹ کھرا، سنگ ترازو
बागीباگی
سنسکرت, ہندی
ذبح کرنے کی چھری
बादीبادی
عربی
ریاحی جسم کے زائد گوشت کا پُھلاؤ مٹاپا (جو گٹھیلانہ ہو اور تھلتھلاہو).
دلی کے بائیس خواجہ
ظہور الحسن شارب
تذکرہ
سوانح محبوب الٰہی
حکیم محمد ادریس
سوانح حیات
بائیس خواجہ کی چوکھٹ
سید رکن الدین نظامی
سچائی جو باعث ابدی زندگی ہے
نامعلوم مصنف
عیسائیت
سیمینار آندھراپردیش میں اردو کے بائیس سال ایک رپورٹ
محمد علی اثر
علماء
معین الدین احمد آئی اے ایس
تاریخ اسلام
گلدستہ بیت بازی
وسیم اقبال صدیقی
بیت بازی
علامہ اقبال کے اشعار
علامہ اقبال
اشعار
شجاع الدین فاروقی
آپ مسافر آپ ہی منزل
مومن اقبال عثمان
مقابلہ آرائی
عبدالباری ایم کے
دلچسپ اصلاحی بیت بازی
اختر سلطان اصلاحی
عجب ہوتے ہیں شاعر بھی
شاہد بلال
انتخاب
پریم وانی
گیت
رنج ہوتا ہے تو ایسا کہ بتائے نہ بنےجب کسی اپنے کے باعث کوئی اپنا ٹوٹے
یہ پانچ کرتے ہیں دیکھو یہ پانچ پاجامےڈلے ہوئے ہیں کمر بند ان میں اور دیکھویہ شیو بکس ہے اور یہ ہے اولڈ اسپائسنہیں حضور کی جھونجل کا اب کوئی باعث
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سواراستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا
تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسیدو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعثترے ہاتھ ہیںجن کو تو نے ہمیشہ لبوں پر رکھا مسکراتے ہوئےتو نہیں جانتینیند کی گولیاں کیوں بنائی گئیںلوگ کیوں رات کو اٹھ کے روتے ہیں سوتے نہیںتو نے اب تک کوئی شب اگر جاگتے بھی گزاریتو وہ باربی نائٹ تھیتجھ کو کیسے بتاؤںکہ تیری صدا کے تعاقب میںمیں کیسے دریاؤں صحراؤں اور جنگلوں سے گزرتا ہواایک ایسی جگہ جا گرا تھاجہاں پیڑ کا سوکھنا عام سی بات تھیجہاں ان چراغوں کو جلنے کی اجرت نہیں مل رہی تھیجہاں لڑکیوں کے بدن صرف خوشبو بنانے کے کام آتے تھےجہاں ایک معصوم بچہ پرندے پکڑنے کے سارے ہنر جانتا تھامجھ کو معلوم تھاتیرا ایسے جہاں ایسی دنیا سے کوئی تعلق نہیںتو نہیں جانتیکتنی آنکھیں تجھے دیکھتے دیکھتے بجھ گئیںکتنے کرتے ترے ہاتھ سے استری ہو کے جلنے کی خواہش میں کھونٹی سے لٹکے رہےکتنے لب تیرے ماتھے کو ترسےکتنی شہراہیں اس شوق میں پھٹ گئی ہیںکہ تو ان کے سینے پہ پاؤں دھرےمیں تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈھتے تھک گیا ہوںاب مجھے تیری موجودگی چاہیےاپنے ساٹن میں سہمے ہوئے سرخ پیروں کو اب میرے ہاتھوں پہ رکھمیں نے چکھنا ہے ان کا نمک
آج میں نے اپنے گھر کا نمبر مٹا دیا ہےاور گل کی پیشانی پر ثبت گل کا نام ہٹا دیا ہےہر سڑک کی سمت کا نام پونچھ دیا ہےاگر مجھے ڈھونڈھنا چاہوتو ہر ملک کے ہر شہر کی گلی کادروازہ کھٹکھٹاؤیہ ایک کلمہ خیر ہے باعث شر ہےجہاں بھی اک آزاد روح کی جھلک دکھائی دےسمجھنا وہ میرا گھر ہے
تزئین کائنات کا باعث وہی بنےدنیا سے اختلاف کی جرأت جنہوں نے کی
باعث آسودگی ہے حشر سامانی مجھےراس آتی ہے بڑی مشکل سے آسانی مجھے
شاید اسی باعث وہ فروزاں ہے ابھی تکسورج نے کبھی رات کی ظلمت نہیں دیکھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books